صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کے قائد طارق رحمان کو قومی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے اور نئی حکومت بنانے کا مینڈیٹ ملنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
صدر زرداری نے بنگلہ دیش کے عوام کو بھی 299 نشستوں پر مشتمل انتخابات کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی، جن میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے شرکت کی۔
خودمختاری اور جمہوری امنگوں کی حمایت کا اعادہ
صدر مملکت نے بنگلہ دیش کی خودمختاری اور جمہوری خواہشات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نئی حکومت کے ساتھ تجارت، دفاع، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی فورمز میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
سارک کے تناظر میں نئی امید
صدر زرداری نے کہا کہ بنگلہ دیش کے انتخابات جنوبی ایشیا کے لیے ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ ماضی کی ان رکاوٹوں سے آگے بڑھا جائے جن کے باعث علاقائی تعاون، بشمول سارک، متاثر ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم 1985 میں بنگلہ دیش میں قائم ہوا تھا، مگر بھارت کی پالیسیوں کے باعث اس کی فعالیت متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے تاریخی انتخابی مرحلہ مکمل، بنگلہ دیش میں بی این پی دو تہائی اکثریت کے قریب
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈھاکہ میں نئی سیاسی فضا خطے میں زیادہ متوازن، خودمختار اور باہمی احترام پر مبنی روابط کو فروغ دے گی۔
صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں بنگلہ دیش میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے پر مسٹر طارق رحمان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
I extend my warmest felicitations to Mr. Tarique Rahman on leading the BNP to a resounding victory in the Parliamentary elections in Bangladesh. I also congratulate the people of Bangladesh on the successful conduct of the elections.
I look forward to working closely with the…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) February 13, 2026
’میں بنگلہ دیش کے عوام کو بھی کامیاب اور پُرامن انداز میں انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ میں بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ ہمارے تاریخی اور برادرانہ، کثیرالجہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے آگے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔













