وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی حکومت جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے حالاں کہ عمران خان کی صحت کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز کا عمران خان کی صحت پر اظہارِ تشویش، بہترین علاج کی فراہمی کا مطالبہ
پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پی ٹی آئی کی جدوجہد پرامن ہے اور گزشتہ 2 دن سے جاری احتجاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سیاست سے بالاتر معاملہ ہے اور ذاتی معالج اور اہلخانہ کی نگرانی میں علاج ان کا بنیادی حق ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ حکومت جان بوجھ کر افراتفری پیدا کرنا اور حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم کارکنان کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پرامن رہیں۔
مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات آج بھی قوم کو یاد ہیں اور عدالتی احکامات پر جتنی تاخیر ہوگی اتنا ہی ملک کے حالات خراب ہوں گے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر کوئی انتشار پھیلانے کی کوشش کرے تو اسے فوری طور پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔
پارلیمنٹ ہاؤس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس پر تالے لگانا لنگڑی جمہوریت کی علامت ہے اور یہ فیصلہ حکومت کو مہنگا پڑے گا۔
دریں اثنا وفاقی وزرا کے ٹوئٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف ٹوئٹس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عمران خان کا علاج ذاتی معالج اور اہلخانہ کی نگرانی میں ہوگا۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے بیرسٹر سلمان صفدر کی 3 گھنٹے تک ملاقات، صحت سے متعلق حقائق سامنے رکھ دیے
انہوں نے واضح کیا کہ اگر واقعی ایسا ہوا تو معاملہ وہیں ختم کر دیا جائے گا اور دھرنا ختم کر دیا جائے گا بصورت دیگر پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحۂ عمل اجتماعی طور پر طے کیا جائے گا۔














