مقدس مقامات کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنا دین کی کھلی بے حرمتی ہے: مبصرین

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مبصرین اور دینی حلقوں نے کہا ہے کہ فتنہ پرور عناصر ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت دین، خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر اپنے جرائم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہی عناصر معصوم بچوں، عورتوں اور نمازیوں کو مساجد، امام بارگاہوں، جمعہ کی نماز اور جنازوں کے اجتماعات میں بے دردی سے نشانہ بناتے ہیں اور مذہبی جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دہشت گردی کو تقدس کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

اسلام میں مسجد کی حرمت مسلم ہے، تاہم فقہائے کرام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی مقام کو فساد، قتل و غارت اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ اپنی اصل حیثیت کھو دیتا ہے۔ مسجد وہی ہے جہاں اللہ کی عبادت ہو، نہ کہ وہاں سے معصوم شہریوں کے قتل کی منصوبہ بندی کی جائے۔

مبصرین کے مطابق جو عناصر مساجد اور مدارس کو اسلحہ گاہ اور دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کرتے ہیں، وہ درحقیقت ان مقدس مقامات کی خود بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں فساد فی الارض کی سخت مذمت کی گئی ہے اور انسانی جان کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں کارروائی سے دہشتگردی کی نذر ہونے والے معصوموں کا بدلہ لیا، طارق فضل چوہدری

علما کے مطابق اگر ریاست ایسے مراکز کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہ حرمتِ دین کے خلاف نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ اور حقیقی تقدس کے قیام کے لیے اقدام ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟