ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود کارروائی، پھر بڑے فوجی آپریشن پر غور، تہران کا جھکنے سے انکار

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، اور اگر اس کے باوجود ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہ ہوا تو آئندہ مہینوں میں ایک وسیع حملے کا امکان بھی موجود ہے، دوسری جانب ایران نے سرینڈر نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں یا ابتدائی محدود کارروائی ایران کو ان کے مطالبات ماننے پر آمادہ نہ کر سکے تو وہ ایک بڑے فوجی آپریشن پر غور کریں گے، جس کا ہدف ایرانی قیادت کو اقتدار سے ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اپنی سرزمین کی کسی بھی خلاف ورزی کو قبول نہیں کریں گے، ایران کا امریکا کو واضح پیغام

اخبار نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کریں گے، جسے ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے عسکری آپشنز بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ابتدائی طور پر چند دنوں میں ایک محدود کارروائی کے حق میں ہیں، جس کا مقصد ایرانی قیادت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ترک کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔

زیرِ غور اہداف میں پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر، جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اگر یہ اقدامات بھی ایران کو امریکی مطالبات پر آمادہ نہ کر سکیں تو صدر ٹرمپ رواں سال کے آخر میں ایک بڑے فوجی حملے کا امکان کھلا رکھیں گے، جس کا مقصد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کو کمزور یا ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ تاہم انتظامیہ کے اندر اس بات پر شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا صرف فضائی حملوں سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

اخبار کے مطابق پسِ پردہ دونوں فریق ایک متبادل تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں، جس کے تحت ایران کو محدود سطح پر صرف طبی تحقیق اور علاج کے مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے تاکہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے، تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں میں سے کوئی فریق اس پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔

اسی دوران 2 امریکی طیارہ بردار بحری جہاز، درجنوں لڑاکا اور بمبار طیارے، اور ری فیولنگ ائیرکرافٹ ایران کے قریب تعینات کیے جا چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران سرینڈر کا مطلب نہیں جانتا، اور اپنی سرزمین کی کسی بھی خلاف ورزی کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو ایران اپنے حقِ دفاع کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور ردعمل دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حبا بخاری کو تھپڑ کیوں مارا؟ صبا حمید کا حیران کن انکشاف

ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی، آسیان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ

جیفرے ایپسٹین کے سائنسدانوں سے کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

ایران حملوں میں امریکا کو پہلے 4 دنوں میں 2 ارب ڈالر کے فوجی نقصان کا سامنا

قطر ایئر ویز کی پروازیں کب بحال ہوں گی؟ کمپنی نے اعلان کردیا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے