برطانیہ میں پہلی بار ایک بچے کی پیدائش ایسے رحم کے ذریعے ہوئی ہے جو ایک مری ہوئی خاتون سے عطیہ کیا گیا تھا۔ ماہرین نے اسے طبی تاریخ کا اہم سنگِ میل قرار دیا ہے جو رحم سے محروم خواتین کے لیے نئی امید بن سکتا ہے۔
گریس بیل، جو 30 کی دہائی میں ہیں، پیدائشی طور پر قابلِ استعمال رحم سے محروم تھیں۔ وہ ایم آر کے ایچ سنڈروم نامی کیفیت کا شکار تھیں، جو برطانیہ میں ہر 5000 میں سے ایک خاتون کو متاثر کرتی ہے۔ اس کیفیت میں رحم موجود نہیں ہوتا، تاہم بیضہ دانیاں نارمل ہوتی ہیں۔ انہیں 16 برس کی عمر میں بتایا گیا تھا کہ وہ خود بچے کو جنم نہیں دے سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: پی کے ایل آئی میں جگر کی پیوندکاری کے ایک ہزار آپریشن مکمل، وزیرِ اعظم کا اظہار تشکر
جون 2024 میں آکسفورڈ کے چرچل اسپتال میں ان کا 10 گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا جس میں متوفیہ ڈونر کا رحم منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں لندن کے لسٹر فرٹیلیٹی کلینک میں آئی وی ایف اور ایمبریو ٹرانسفر کے مراحل مکمل کیے گئے۔ ان کا بیٹا ہیوگو کرسمس 2025 سے کچھ پہلے لندن کے کوئین شارلٹ اینڈ چیلسیا اسپتال میں پیدا ہوا۔
گریس بیل نے بیٹے کی پیدائش کو ‘معجزہ’ قرار دیتے ہوئے ڈونر اور اس کے خاندان کا شکریہ ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق متوفیہ ڈونر کے رحم سے پیدا ہونے والے بچے کا ڈونر سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے: کیا بار بار اعضا کی پیوندکاری سے انسان امر ہو سکتا ہے؟شی جن پنگ اور پیوٹن کےدرمیان غیر متوقع گفتگو
یہ کامیابی برطانیہ میں جاری کلینیکل تحقیق کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں اب تک 100 سے زائد رحم کی پیوندکاریاں ہو چکی ہیں جن کے نتیجے میں 70 سے زیادہ صحت مند بچوں کی پیدائش ممکن ہوئی ہے۔














