وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ وفاقی بجٹ میں براہِ راست ٹیکسوں میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ صارفین سے وصول کیے جانے والے بالواسطہ ٹیکس حکومت کے خزانے میں جمع نہیں ہو رہے، جو قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا
اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم 2026 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لیے براہِ راست ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو یقین ہونا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں کے باعث ان کا سرمایہ متاثر نہیں ہوگا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif digitally launches the PSDP Data Portal of Ministry of Planning and Development at the Pakistan Governance Forum 2026 in Islamabad. pic.twitter.com/A5IKlEDj7c
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 25, 2026
وزیراعظم نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم اب توجہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے آئندہ بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں میں بھی کمی کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے کہا کہ جون 2023 میں پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، مگر مشترکہ کاوشوں سے دو برسوں میں معاشی صورتحال مستحکم کی گئی۔ ان کے مطابق مہنگائی جو 35 فیصد کے قریب تھی، اسے کم کرکے 7 فیصد سے نیچے لایا گیا جبکہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تک آچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد
وزیراعظم نے بتایا کہ بعض اصلاحات حکومت کی اپنی ضرورت کے تحت کی گئیں اور ان میں آئی ایم ایف کا کوئی کردار نہیں تھا۔ بجلی کے شعبے میں فی یونٹ قیمت میں 9 روپے کمی کی گئی جبکہ سولر سرمایہ کاری کو بھی تحفظ دیا گیا۔ انہوں نے بجلی چوری سے سالانہ 200 ارب روپے کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط حکومتی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif addresses the inaugural session of the Pakistan Governance Forum 2026 in Islamabad. pic.twitter.com/j8McLOAuec
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 25, 2026
انہوں نے یوٹیلیٹی اسٹورز اور پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کو بدعنوانی سے آلودہ ادارے قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کو قومی خزانے کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ مزید کہا کہ رمضان پیکیج کے تحت 38 ارب روپے مستحق افراد کو ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے شفاف انداز میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ نجی شعبے، برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کو سہولت دینا ہے تاکہ پاکستان جلد معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔











