پاکستان میں معاشی استحکام اور اقتصادی بحالی کے دعوؤں کے باوجود غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آمدنی میں عدم مساوات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، جس سے اقتصادی ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک نہ پہنچنے کے خدشات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 19-2018 میں 21.9 فیصد تھی، جو 25-2024 کے دوران بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔ اس طرح 100 میں سے تقریباً 29 پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اقتصادی سروے: مالی سال 2026 میں پاکستان کا بیرونی قرض 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ طویل المدتی بنیادوں پر غربت میں کمی آئی تھی اور یہ 06-2005 میں 50.4 فیصد سے کم ہو کر 19-2018 میں 21.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں معاشی جھٹکوں کے باعث غربت دوبارہ بڑھ گئی ہے۔
دیہی علاقوں میں غربت شہری علاقوں سے دوگنا
اقتصادی سروے کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو شہری علاقوں کی 17.4 فیصد شرح کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان معاشی فرق کو واضح کرتے ہیں۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ دیہی آبادی خصوصاً مہنگائی، محدود روزگار کے مواقع، موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔
آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ
سروے کے مطابق آمدنی کی تقسیم میں بھی عدم توازن بڑھا ہے۔ آمدنی میں عدم مساوات کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والا گنی کوایفیشنٹ 19-2018 کے 28.4 سے بڑھ کر 25-2024 میں 32.7 ہو گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد آبادی کے مختلف طبقات میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔
معاشی جھٹکوں نے غربت میں اضافہ کیا
اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی شرح بلند، روپے کی قدر میں کمی، تباہ کن سیلاب، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور آمدنی میں سست رفتار اضافے نے لاکھوں خاندانوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔
اگرچہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم خوراک، بجلی، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اب بھی کم آمدنی والے طبقات پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
سماجی تحفظ کے پروگراموں پر اخراجات میں اضافہ
حکومت کا مؤقف ہے کہ سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں نے کمزور طبقات کو سہارا فراہم کیا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 26-2025 کے پہلے 9 ماہ کے دوران غربت کے خاتمے اور فلاحی منصوبوں پر 4.66 کھرب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 4.25 کھرب روپے تھی۔
ملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے ’بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام ‘کے لیے رواں مالی سال 722.49 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 540.27 ارب روپے پہلے 9 ماہ کے دوران مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ سماجی بہبود اور فلاحی اخراجات بڑھ کر 822.21 ارب روپے جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اخراجات 224.92 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
سماجی اشاریوں میں بہتری برقرار
غربت میں اضافے کے باوجود اقتصادی سروے میں کئی سماجی شعبوں میں مثبت پیش رفت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق اسکولوں میں حاضری، شرح خواندگی، انٹرنیٹ تک رسائی، حفاظتی ٹیکوں کی کوریج، صفائی کی سہولیات اور صاف ایندھن کے استعمال میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بہتری آئی ہے۔
پائیدار ترقی کے لیے روزگار کا فروغ ضروری
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ میکرو اکنامک استحکام پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے، تاہم غربت میں حقیقی کمی کے لیے روزگار کے نئے مواقع، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:گندم اور چاول کی پیداوار میں اضافہ، زرعی شعبے میں ہدف کا حصول ممکن نہ ہو سکا، اقتصادی سروے
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی غربت میں اضافے کو ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ روایتی معاشی اشاریے اب مطلوبہ سطح پر روزگار پیدا نہیں کر رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں معیشت اور روزگار کے حوالے سے نئی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔














