منگولیا نے 2 دہائیوں قبل غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک اسمگل کیے جانے والے ڈائنوسار کا ایک نایاب ڈھانچہ اور فوسلز کا قیمتی ذخیرہ واپس حاصل کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق بدھ کے روز ان نایاب حیاتیاتی خزانوں کی واپسی کے لیے سالوں سے جاری کوششیں بالاخر رنگ لے آئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واپس ملنے والے اس ذخیرے میں ٹاربوسورس بٹا نامی ڈائنوسار کا ایک ڈھانچہ شامل ہے جو 50 فیصد سے زیادہ مکمل حالت میں ہے۔

اس کے علاوہ ڈائنوسار کی باقیات کے 28 دیگر فوسل گروپس بھی شامل ہیں، جو بنیادی طور پر منگولیا کے مشہور صحرائے گوبی سے دریافت ہوئے تھے۔
پولیس کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈی منخ خیاگ نے بتایا کہ ’یہ ہڈیاں اور فوسلز 2006 میں مالی فائدے اور منافع کمانے کی غرض سے منگولیا سے غیر قانونی طور پر اسمگل کیے گئے تھے۔‘
فرانسیسی حکام کا تعاون اور واپسی کا طویل سفر
فرانسیسی کسٹمز ایجنسیوں نے ان فوسلز کو 2013 سے 2015 کے درمیان ضبط کیا تھا، جس کے بعد ثقافتی ورثے کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی کنونشنز کے تحت ایک سال بعد ان کی منگولیا واپسی کا عمل شروع ہوا۔
طویل قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے بعد، یہ فوسلز جمعرات کو منگولیا کے دارالحکومت اولان باتار پہنچ گئے۔

ان نوادرات کو منگولیا کے نئے ‘نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری’ میں رکھا جائے گا، جہاں پہلے ان پر سائنسی تحقیق کی جائے گی اور بعد میں انہیں عام عوام کی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ایک بے قیمت سائنسی اور ثقافتی ورثہ
میوزیم کی ڈائریکٹر منچوک نورام خان نے پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ڈائنوسار کا یہ فوسل بے قیمت اور ہماری ثقافت کا ایک منفرد حصہ ہے۔ ہم انتہائی خوش ہیں کہ اب ہمارے بچوں اور نوجوان نسل کو منگولیا کے اس قدیم ڈائنوسار ورثے کو قریب سے دیکھنے اور اس سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘
واضح رہے کہ ٹاربوسورس بٹار دراصل مشہورِ زمانہ ٹائرینوسورس ریکس کا انتہائی قریبی رشتہ دار مانا جاتا ہے جو اب سے تقریباً 70 ملین (7 کروڑ) سال پہلے پایا جاتا تھا، اس کی موجودگی کے شواہد دنیا بھر میں تقریباً صرف منگولیا کے صحرائے گوبی ہی سے ملتے ہیں۔

میوزیم کی ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ان فوسلز کی واپسی منگولیا سے چوری شدہ ثقافتی اور سائنسی ورثے کو بحال کرنے کی کوششوں کی ایک بڑی جیت ہے، اور یہ نوادرات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
حالیہ برسوں میں نجی جمع کنندگان اور نیلام گھروں کی مانگ کے باعث بلیک مارکیٹ میں ان نایاب فوسلز کی اسمگلنگ بڑھ گئی ہے، جس کے خلاف منگولیا نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔














