2 دہائیوں بعد اسمگل شدہ ڈائنوسار کے نایاب فوسلز منگولیا واپس پہنچ گئے

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

منگولیا نے 2 دہائیوں قبل غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک اسمگل کیے جانے والے ڈائنوسار کا ایک نایاب ڈھانچہ اور فوسلز کا قیمتی ذخیرہ واپس حاصل کر لیا ہے۔

 حکام کے مطابق بدھ کے روز ان نایاب حیاتیاتی خزانوں کی واپسی کے لیے سالوں سے جاری کوششیں بالاخر رنگ لے آئیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واپس ملنے والے اس ذخیرے میں ٹاربوسورس بٹا  نامی ڈائنوسار کا ایک ڈھانچہ شامل ہے جو 50 فیصد سے زیادہ مکمل حالت میں ہے۔

 

اس کے علاوہ ڈائنوسار کی باقیات کے 28 دیگر فوسل گروپس بھی شامل ہیں، جو بنیادی طور پر منگولیا کے مشہور صحرائے گوبی سے دریافت ہوئے تھے۔

پولیس کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈی منخ خیاگ نے بتایا کہ ’یہ ہڈیاں اور فوسلز 2006 میں مالی فائدے اور منافع کمانے کی غرض سے منگولیا سے غیر قانونی طور پر اسمگل کیے گئے تھے۔‘

فرانسیسی حکام کا تعاون اور واپسی کا طویل سفر

فرانسیسی کسٹمز ایجنسیوں نے ان فوسلز کو 2013 سے 2015 کے درمیان ضبط کیا تھا، جس کے بعد ثقافتی ورثے کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی کنونشنز کے تحت ایک سال بعد ان کی منگولیا واپسی کا عمل شروع ہوا۔

طویل قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے بعد، یہ فوسلز جمعرات کو منگولیا کے دارالحکومت اولان باتار پہنچ گئے۔

ان نوادرات کو منگولیا کے نئے ‘نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری’ میں رکھا جائے گا، جہاں پہلے ان پر سائنسی تحقیق کی جائے گی اور بعد میں انہیں عام عوام کی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ایک بے قیمت سائنسی اور ثقافتی ورثہ

میوزیم کی ڈائریکٹر منچوک نورام خان نے پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ڈائنوسار کا یہ فوسل بے قیمت اور ہماری ثقافت کا ایک منفرد حصہ ہے۔ ہم انتہائی خوش ہیں کہ اب ہمارے بچوں اور نوجوان نسل کو منگولیا کے اس قدیم ڈائنوسار ورثے کو قریب سے دیکھنے اور اس سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔‘

واضح رہے کہ ٹاربوسورس بٹار دراصل مشہورِ زمانہ ٹائرینوسورس ریکس  کا انتہائی قریبی رشتہ دار مانا جاتا ہے جو اب سے تقریباً 70 ملین (7 کروڑ) سال پہلے پایا جاتا تھا، اس کی موجودگی کے شواہد دنیا بھر میں تقریباً صرف منگولیا کے صحرائے گوبی ہی سے ملتے ہیں۔

میوزیم کی ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ان فوسلز کی واپسی منگولیا سے چوری شدہ ثقافتی اور سائنسی ورثے کو بحال کرنے کی کوششوں کی ایک بڑی جیت ہے، اور یہ نوادرات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

حالیہ برسوں میں نجی جمع کنندگان اور نیلام گھروں کی مانگ کے باعث بلیک مارکیٹ میں ان نایاب فوسلز کی اسمگلنگ بڑھ گئی ہے، جس کے خلاف منگولیا نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لندن میں موبائل فون اسنیچنگ کی وارداتیں: روک تھام کے لیے ایپل اور پولیس کی مشترکہ کارروائیاں

اینڈرائیڈ صارفین کے لیے واٹس ایپ پر آئی فون جیسا نیا میسج مینیو متعارف کرانے کی تیاری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ترکیہ بری فوج کے کمانڈر کی ملاقات، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ملک میں مالی سال 26-2025 میں مینوفیکچرنگ شعبے کی نمو 6.6 فیصد تک پہنچ گئی

پاکستان میں کوئلے کے استعمال میں 32 فیصد اضافہ، توانائی کے شعبے میں توسیع کے باوجود فوسل فیولز پر انحصار برقرار

ویڈیو

کالعدم ایکشن کمیٹی کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، کیا خوفناک مطالبہ کیا گیا تھا؟

صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری، معاملہ انتہائی پیچیدہ مگر حکومت متحرک ہے، ترجمان دفتر خارجہ

بجٹ 27-2026 سے خواتین کی کیا توقعات ہیں؟

کالم / تجزیہ

 فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

اسرائیل کی ملٹری ڈاکٹرائن

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘