سعودی انٹرٹینمنٹ اینڈ امیوزمنٹ ایکسپواپنے 8ویں سال کے انعقاد کے لیے 19 سے 21 مئی تک ریاض میں منعقد ہو رہی ہے، جو مملکت میں وژن 2030 کے تحت ثقافتی اور تفریحی شعبے کی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرے گی۔ نمائش ریاض میں منعقد ہوگی۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب میں رمضان: ثقافت، روحانیت اور یکجہتی کو سمجھنے کا بہترین موقع
منتظم ادارے کے مطابق امسال 500 نمائش کنندگان اور 23 ہزار سے زائد ماہرین شرکت کریں گے۔ ادارے کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ تمام بڑے نمائش کنندگان کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب میں تفریح، ثقافت اور ورثے کے شعبے مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکے ہیں اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق مملکت تیزی سے تفریحی مقامات، لائیو ایونٹس، عجائب گھروں اور ورثہ منصوبوں کے حوالے سے ایک عالمی مرکز بنتی جا رہی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ثقافتی شعبہ ملکی جی ڈی پی میں 3 فیصد حصہ ڈالے اور 3 لاکھ 46 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں سعودی عرب میں تفریحی تقریبات میں شرکت 7 کروڑ 69 لاکھ تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیاد پر 6.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ 2023 میں ثقافتی و تفریحی شعبے سے وابستہ کاروباروں کی تعداد 51 ہزار سے تجاوز کر گئی جو 2021 کے مقابلے میں 23.6 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال
مارکیٹ کی بڑھتی طلب کے پیش نظر لائٹ اینڈ ساؤنڈ ایکسپو میں ’ایونٹ پروڈکشن شو‘ بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جو کنسرٹس، فیسٹیولز اور بڑے ایونٹس کے لیے مربوط نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق مملکت کا ایونٹ مینجمنٹ سیکٹر 2025 میں 2.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک 4.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میوزیمز اینڈ ہیریٹیج ایکسپو سعودی عرب میں اپنے نوعیت کا پہلا پلیٹ فارم ہوگا، جو عجائب گھروں اور ورثے کے شعبے کو خصوصی طور پر فروغ دے گا۔













