اسرائیل امریکا جنگ جاری: 500 اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ

ہفتہ 28 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی جنگ میں کود پڑی اور اس نے ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں، ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔

 

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی اہلیہ منصوره خجستہ باقرزادہ حالیہ فوجی حملوں میں لگنے والی شدید چوٹوں کے باعث زندگی کی بازی ہار گئیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ منصوره خُجسطہ شوہر کی شہادت کے بعد سے زخمی تھیں آج ان زخموں کے باعث انتقال کر گئیں۔

یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور گزشتہ ہفتے ہونے والے امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں ایران کے اعلیٰ قیادت اور دیگر سینیئر شخصیات بھی شہید یا زخمی ہوئی تھیں۔

حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ حملوں میں سپریم لیڈر کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی چوٹیں پہنچی تھیں جن میں ان کی بیٹی، داماد اور نواسی شامل ہیں۔

ایران کا اسرائیل پر نئے حملوں کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ جنوبی اسرائیل کے شہر کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی گیارہویں لہر کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حملے میں اسرائیلی فوج کی مواصلاتی صنعتوں کے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک عمارت کی تصویر بھی جاری کی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایجنسی نے دعویٰ کیاکہ مذکورہ عمارت میں بڑی بین الاقوامی کمپنیاں قائم ہیں، جن میں مائیکروسافٹ بھی شامل ہے۔

دوسری طرف تہران میں مسلسل تیسرے روز بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ایک ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔

ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ دارالحکومت پر بمباری سے ان کی جنگی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔

اسرائیل نے بھی تہران پر نئی فضائی کارروائی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ایران نے خلیج میں میزائل حملوں سے جواب دیا۔ ان پی رفتوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور فضائی سفر کو بھی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔


کویتی فضائی دفاع کی فائرنگ سے 3 امریکی لڑاکا طیارے تباہ، سینٹ کام کی تصدیق

سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ کویت کے فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی فضائیہ کے 3 ایف 15 طیاروں کو نشانہ بنا دیا۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا جب 3 ایف 15 طیارے غلطی سے مار گرائے گئے۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تینوں طیاروں میں سوار تمام 6 اہلکار بحفاظت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت نے اس واقعے کو تسلیم کر لیا ہے اور جاری آپریشن کے دوران کویتی دفاعی افواج کے تعاون اور کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

کویت میں متعدد امریکی لڑاکا طیارے تباہ

کویت کی وزارت دفاع  نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں ’متعدد‘ امریکی لڑاکا طیارے گر گئے، تاہم تمام پائلٹس اور عملے کے افراد محفوظ ہیں۔

الجزیرہ نے کویتی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں اور فوری طور پر تلاش اور ریسکیو آپریشنز کے ذریعے اسپتال منتقل کیے گئے، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ ان کی حالت مستحکم ہے۔ کویتی حکام امریکی فورسز کے ساتھ مل کر کارروائی کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی مزید حادثے سے بچا جا سکے۔

اسرائیل و امریکا کا بغداد پر بھی حملہ

اسرائیل اور امریکا نے بغداد کے جنوب میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔

العربیہ کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے عراقی دارالحکومت بغداد کے جنوب میں جرف الصخر کے علاقے میں ایران نواز نیم فوجی گروپ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

حملے کے نتیجے میں گاڑیوں، دفاتر اور گوداموں کو شدید نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل اور امریکی فورسز کے مشترکہ منصوبے کے تحت انجام دی گئی، اور علاقے کی نگرانی کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

کویت میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران کویتی فضائی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جبکہ پائلٹ کے بحفاظت ایجیکٹ کر جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر طیارے کو تیزی سے نیچے گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ مناظر میں پائلٹ کو ایجیکٹ کرنے کے بعد زمین پر موجود دکھایا گیا ہے۔

ایران کے صدر نے میجر جنرل مجید ابن‌الرضا کو قائم مقام وزیرِ دفاع مقرر کر دیا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاسدارانِ انقلاب کے جنرل مجید ابن‌الرضا کو ایران کا قائم مقام وزیرِ دفاع مقرر کردیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب سابق وزیرِ دفاع اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران کا بحیرۂ روم میں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل برطانوی فوجی اڈے پر حملہ

ایران نے قبرص میں قائم برطانیہ کے اہم ترین فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔

قبرص کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے ’اکروتیری‘ پر ہونے والا حملہ بغیر پائلٹ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس سے محدود نوعیت کا نقصان ہوا۔

حکومتی ترجمان نے بتایا کہ حملے میں ایک بغیر پائلٹ طیارہ استعمال کیا گیا اور اس سے ’تھوڑا سا نقصان‘ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام برطانیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ’اکروتیری‘ میں قائم برطانوی فوجی اڈہ مشرقی بحیرۂ روم میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حملوں کے بعد روسی صدر پیوٹن کا امیرِ قطر سے اظہارِ یکجہتی

ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

امیرِ قطر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شیخ تمیم بن حمد الثانی نے روسی صدر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایران کے حملوں کے تناظر میں قطر کے ساتھ مکمل حمایت اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی تیاری کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

گفتگو کے دوران علاقائی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ایران نے امریکا سے مذاکرات سے انکار کردیا

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران واشنگٹن سے بات چیت نہیں کرے گا۔

علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘

یہ بیان امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی لاریجانی نے رہبرِ ایران علی خامنہ ای کی شہادت  کے بعد عمانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔

علی لاریجانی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔

صرف 25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی

ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی حملوں کی حمایت محدود دکھائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ حکمران پارٹی ’ریپبلیکن‘ بھی تقسیم کی شکار ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز  اور سروے ادارے اپسوس کی جانب سے کیے گئے مشترکہ جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ صرف ہر 4 میں سے ایک امریکی ایران پر حملوں کی حمایت کرتا ہے۔

سروے کے مطابق 43 فیصد جواب دہندگان نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کی، جبکہ 29 فیصد افراد اس معاملے پر کوئی رائے دینے سے قاصر دکھائی دیے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے حوالے سے ریپبلکن ووٹرز میں حمایت نسبتاً زیادہ ہے، تاہم وہ بھی مکمل طور پر متفق نہیں۔ تقریباً 55 فیصد ریپبلکنز نے امریکی اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی، 13 فیصد نے مخالفت کی جبکہ 32 فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا۔

سروے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تقریباً 42 فیصد ریپبلکن جواب دہندگان نے کہا کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں تو وہ اس آپریشن کی حمایت کم کر دیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی کے معاملے پر امریکی عوام کی رائے منقسم ہے اور جانی نقصان کی صورت میں حمایت مزید کم ہو سکتی ہے۔

حزب اللہ بھی جنگ میں کود پڑی

لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی جنگ میں کود پڑی، حزب اللہ نے ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔

گروپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے رہنما علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی، اور یہ قدم لبنان اور اس کے عوام کے دفاع اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مزاحمتی قیادت پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ اسرائیلی حملوں کا تسلسل اور ان کے رہنماؤں، نوجوانوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا انہیں اپنے دفاع اور مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق دیتا ہے۔

حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہاکہ اسرائیل 15 ماہ سے جاری جارحیت کو بغیر کسی ردعمل کے جاری نہیں رکھ سکتا اور خبردار کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد اسرائیلی حملوں کو روکنا اور مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا پر مجبور کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حبا بخاری کو تھپڑ کیوں مارا؟ صبا حمید کا حیران کن انکشاف

ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی، آسیان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ

جیفرے ایپسٹین کے سائنسدانوں سے کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

ایران حملوں میں امریکا کو پہلے 4 دنوں میں 2 ارب ڈالر کے فوجی نقصان کا سامنا

قطر ایئر ویز کی پروازیں کب بحال ہوں گی؟ کمپنی نے اعلان کردیا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے