دنیا بھر میں جہاں رمضان کی راتیں عبادت اور سکون کے لیے جانی جاتی ہیں، وہیں کراچی والے سحر تک جاگنے کی اس روایت کو کرکٹ کے جنون کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔
کراچی میں نائٹ کرکٹ صرف بڑے کلبوں تک محدود نہیں ہے۔ افطار کے بعد جیسے ہی تراویح ختم ہوتی ہے، شہر کی ہر گلی، ہر شاہراہ اور ہر پارک روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔
مزید پڑھیں: رمضان المبارک میں پنجاب کے بڑے شہروں میں کھیلوں کے مقابلے کرانے کا فیصلہ
کہیں بڑی فلڈ لائٹس لگی ہوتی ہیں تو کہیں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس اور گھروں سے نکالی گئی تاروں کے بلب ہی گراؤنڈ کو روشن کر دیتے ہیں۔
رمضان نائٹ کرکٹ کی اصل جان ٹیپ بال ہے۔ ٹینس بال پر برقی ٹیپ چڑھا کر اسے تھوڑا وزنی اور تیز بنایا جاتا ہے۔ اس فارمیٹ کی وجہ سے یہ کھیل کم وقت میں زیادہ سنسنی خیز ہو جاتا ہے، اور یہی وہ نرسری ہے جس نے پاکستان کو حارث رؤف جیسے تیز گیند باز دیے۔
یہ کھیل رات 10 بجے کے قریب شروع ہوتا ہے اور اس کا اختتام سحری کے وقت ہوتا ہے۔ کھلاڑی ہوں یا تماشائی، سب کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ کھیل کے ساتھ ساتھ سحری تک کا وقت گزارا جائے۔
میچ ختم ہوتے ہی پوری ٹیم قریبی ڈھابے یا ہوٹل پر سحری کے لیے پہنچ جاتی ہے، جہاں پراٹھوں اور چائے کے ساتھ ہار جیت پر بحث ہوتی ہے۔
رمضان میں ہونے والے بڑے ٹورنامنٹس (جیسے ناظم آباد، ملیر یا ڈی ایچ اے میں ہونے والے ایونٹس) میں لاکھوں روپے کے انعامات رکھے جاتے ہیں۔ ان میچوں کو دیکھنے کے لیے ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہوتا ہے، جو شہر کی رونقوں میں اضافہ کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ایک ہی سڑک پر 30 کرکٹ میچز‘، کرک انفو نے کراچی کی ویڈیو شیئر کردی
کراچی کی رمضان نائٹ کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافت بن چکی ہے۔ یہ شہر کی زندہ دلی کی علامت ہے، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، کراچی کے لوگ اپنی خوشیاں اور اپنا جنون کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیتے۔













