ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہادت کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران فائرنگ اور جھڑپوں میں 9 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: خامنہ ای کی شہادت پر احتجاج: مظاہرین کے احساسات کو سمجھا جائے، مریم نواز کی انتظامیہ کو ہدایت

پولیس کے مطابق مظاہرین نے قونصل خانے کے قریب پتھراؤ کیا، جس کے جواب میں پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس شیل کا استعمال کر کے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا۔

اس کے علاوہ لاہور، کوئٹہ، پشاور سمیت گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون ہاتھ میں نہ لیں، کیوں کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، اور قانون کی کسی بھی خلاف ورزی پر کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔

گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو اور دیگر علاقوں میں بھی عوام نے احتجاج کیا، اور ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس کے علاوہ لاہور، پشاور اور دیگر شہروں میں بھی عوام نے احتجاج کیا، تاہم حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن احتجاج ضرور ریکارڈ کرائیں لیکن قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ پنجاب میں ہر قسم کے اجتماعات اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

شہری قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، وزیر داخلہ محسن نقوی

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ شہری قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور اپنے احتجاج کو پرامن طریقے سے ریکارڈ کرائیں، کیونکہ ہم سب اس وقت ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، وزیر دفاع خواجہ آصف کی اپیل

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، احتجاج کو پرامن رکھیں اور ملک کے اندر کسی بھی قسم کی بدامنی یا نقصان سے بچیں۔

مظاہرین کے احساسات کو سمجھیں، مریم نواز کی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ مظاہرین کے احساسات کو سمجھا جائے اور ان کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آیا جائے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مظاہرین کے لیے افطار کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان اس وقت دکھی اور اشک بار ہے مگر اپنے ملک اور اپنے شہروں میں امن و امان قائم رکھنا بھی ہم سب کا اولین فرض ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس فرض کی پاسداری کی جائے اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم سب ایک ہیں۔

شیعہ علما نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کردی

ادھر پاکستان کے شیعہ علما نے بھی موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کردی۔

جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہاکہ رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے عالم اسلام اپنے رہنما اور مرشد سے محروم ہوگیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ صہیونیوں کی بھول ہے کہ قائد کی شہادت سے قیادت ختم ہو جاتی ہے، اصل میں ان کا اگلا ہدف پاکستان ہے، اس موقع پر ہمیں پرامن رہنا ہے۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شیخ آغا باقر نے بھی اسکردو بلتستان کے موجودہ حالات کے پیشِ نظر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہاکہ احتجاج ایک اصولی اور نظریاتی مؤقف کا اظہار ہے اور اسے ہر حال میں پُرامن رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ایران پر حملے، جذباتی ردعمل کے بجائے دانشمندانہ طرز عمل کی ضرورت

شیخ آغا باقر نے واضح کیاکہ کسی بھی سرکاری عمارت، قومی ادارے یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ہمارا وطن اور ہمارا مشترکہ گھر ہے، اس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے، لہٰذا ایسے کسی عمل سے گریز کیا جائے جس سے اپنے ملک کو نقصان پہنچے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: جڑانوالہ چرچ حملہ اور توہین مذہب کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

سپریم کورٹ: پرویز الہیٰ، راسخ الہیٰ اور محمد خان بھٹی کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

ایران کے حملوں میں 150 کے قریب امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا انکشاف

ٹی20 ورلڈ کپ فائنل میں دھونی اور روہت موجود، مگر ویرات کوہلی کیوں غائب رہے؟

نئی موٹرویز کم از کم 6 لین بنانے کا فیصلہ، این ایچ اے

ویڈیو

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی بائیکوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے