پاکستانی ٹیم ناکام، مگر صاحبزادہ فرحان نے تاریخ رقم کردی، حیران کن اعداد و شمار

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے میں ناکام رہی جبکہ صاحبزادہ فرحان نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کی۔ سری لنکا کے خلاف میچ میں سنچری بنانے کے بعد بھی ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پاکستان سیمی فائنل سے باہر ہو گیا۔

سوشل میڈیا ایکسپرٹس نے صاحبزادہ فرحان کی بیٹنگ کی تعریف کی لیکن ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر تنقید بھی کی گئی۔ کرکٹ ماہرین نے کہا کہ کرکٹ ایک ٹیم کھیل ہے اور جیت کے لیے صرف ایک یا دو بہترین کھلاڑی پر انحصار ممکن نہیں۔ اگر ٹیم کے دیگر کھلاڑی اپنا کردار ادا نہ کریں تو نتائج بھی وہی نکلتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ سے اخراج مہنگا پڑگیا، پاکستانی کھلاڑیوں پر 50 لاکھ جرمانہ

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 383 رنز صاحبزادہ فرحان نے بنائے، دو سنچریاں بھی انہی کی ہیں، اور 18 چھکوں والے بیٹرز میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں لیکن ٹیم اکیلے ان کی کوششوں پر سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ بیٹنگ لائن کے دیگر اہم کھلاڑی جیسے صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان نے مل کر صرف 281 رنز بنائے، جو صاحبزادہ فرحان کے سکور سے 102 رنز کم ہے۔ صائم ایوب 6 میچز میں 70، سلمان علی آغا 7 میچز میں 60، بابر اعظم 6 میچز میں 100 رنز کے قریب، اور عثمان خان 7 میچز میں 60 رنز تک محدود رہے۔

یہ بھی پڑھیں: صاحبزادہ فرحان کی سینچری رائیگاں، پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی کا خواب چکنا چور ہوگیا

صائم ایوب کے بارے میں کہا گیا کہ شاید ہی کوئی اور خوش قسمت ہو جسے مسلسل ناکامیوں کے باوجود اتنے مواقع دیے گئے ہوں لیکن 67 ٹی20 میچز میں صرف 6 ففٹیز بنانا اور اوسط 21 ہونا باعث تشویش ہے حالانکہ شائقین انہیں پسند کرتے ہیں۔

کرکٹ ایکسپرٹس کا مزید کہنا تھا کہ آدھے سے زیادہ پلیئرز کی جگہ نہیں بنتی، جو پرفارم نہیں کر رہے چاہے جتنا بھی بڑا نام ہیں انھیں باہر کریں۔ اگر اب کچھ نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں لگتا جب کرکٹ کا حال بھی ہاکی والا ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: شکست کے بعد سلمان علی آغا کے اہل خانہ کو آن لائن ہراسانی کا سامنا، اہلیہ نے سوشل میڈیا پر کیا پیغام دیا؟

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مایوس کن کارکردگی کے بعد ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے اور اسکواڈ کو واضح کر دیا ہے کہ اب مالی انعامات مکمل طور پر کارکردگی پر منحصر ہوں گے۔

 اے کیٹیگری کھلاڑی کو ماہانہ 45 لاکھ روپے تنخواہ اور ICC ریونیو شیئر میں 20 لاکھ 70 ہزار روپے ملتے ہیں جبکہ بی کیٹیگری کھلاڑی کو 30 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور 15 لاکھ 52 ہزار روپے آئی سی سی شیئر کے طور پر ادا کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جیت کے بعد ٹی 20 ورلڈکپ کے سیمی فائنلز کیا رُخ اختیار کر سکتے ہیں؟

حکام نے واضح طور پر اسکواڈ کو آگاہ کر دیا ہے کہ اب ترجیحی سلوک ختم کر دیا گیا ہے اور مالی انعامات کا انحصار مکمل طور پر کارکردگی پر ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح عمدہ کارکردگی پر بونس دیا جاتا ہے، اسی طرح خراب نتائج پر سزا بھی بھگتنا ہوگی۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے خلاف شکست کے فوراً بعد ہی ٹیم کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے صاحبزادہ فرحان نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں اپنے مجموعی رنز کی تعداد 320 سے زائد کر دی جس کے ساتھ ہی انہوں نے ویرات کوہلی کے 2014 میں قائم کردہ 319 رنز کے ریکارڈ کو توڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ بنگلہ دیش متاثر ہو سکتا ہے؟

صاحبزادہ فرحان نے سری لنکا کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے 60 گیندوں پر 9 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے، اس طرح ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے ایک ایڈیشن میں دو سنچریاں بنانے والے پہلے بیٹر بن گئے، اس سے قبل انہوں نے نمیبیا کے خلاف میچ میں بھی سنچری اسکور کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp