امور خارجہ کے تجزیہ کار احمد حسن العربی نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کی منصوبہ بندی میں غلط طور پر سعودی عرب کو ملوث کیا جا رہا ہے اور اس بارے میں مغربی میڈیا میں چھپنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب سمیت کوئی اسلامی ملک ایران پرحملوں میں ملوث نہیں، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل
وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن العربی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد خطے کی صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق یہ صرف ایک ملک کے رہنما کی ہلاکت نہیں بلکہ عالمی نظام کی تبدیلی کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا یونی پولر نظام سے ملٹی پولر نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس تبدیلی کے دوران تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ مسترد، سعودی عرب نے رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا
انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ فعال تنازعات موجود ہیں اور مہاجرین کی تعداد بھی ریکارڈ سطح پر ہے۔
امریکا کا کردار اور اسرائیل
احمد حسن العربی کے مطابق امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی براہِ راست مداخلت کم کرنا چاہتا ہے تاہم وہ سیکیورٹی ذمہ داریاں اسرائیل کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔
ان کے بقول امریکا خطے سے اسٹریٹیجک واپسی چاہتا ہے لیکن اسرائیل وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ پورے خطے کو سیکیورٹی گارنٹی دے سکے۔
مزید پڑھیں: کشیدگی کے مقابل امن کی حکمت عملی، سعودی عرب کا مؤقف واضح
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے اندر اسرائیل نواز حلقوں اور ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے حامیوں کے درمیان پالیسی اختلاف موجود ہے۔
سعودی عرب سے متعلق دعوے
ایک سوال کے جواب میں احمد حسن العربی نے مغربی میڈیا میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران پر حملے میں سعودی عرب کا کردار تھا۔ ان کے مطابق اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
احمد حسن العربی نے امکان ظاہر کیا کہ فوری طور پر مکمل علاقائی جنگ کا خطرہ کم ہے۔ ’ممکن ہے کہ محدود کارروائیوں کے بعد ایک اسٹریٹیجک وقفہ آ جائے۔ تاہم خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش جیسے اقدامات عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، تاہم فی الحال ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں۔
گفتگو کے دوران احمد حسن العربی نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور سرحدی کشیدگی پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی پالیسی کا بنیادی ہدف دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کیخلاف مہم مسلم اُمہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، علامہ طاہر اشرفی
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان سرحد پار موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور اس کا مقصد اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق موجودہ حالات کے باوجود فوری طور پر تیسری عالمی جنگ کا امکان کم ہے۔ ’ماضی میں بھی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھی لیکن مکمل عالمی جنگ میں تبدیل نہیں ہوئی۔‘
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے اور اپنی دفاعی پوزیشن سے آگاہ ہے۔ ’پاکستان ایران، نیپال یا بھوٹان نہیں ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر آرمڈ ریاست ہے اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی رکھتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی ایرانی جارحیت کی شدید مذمت، خطے کے ممالک سے مکمل یکجہتی کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان اپنی حکمتِ عملی کو محتاط انداز میں ترتیب دے رہا ہے۔












