زمین کے بارے میں انسانیت ایک بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے، 178 دن خلا میں گزارنے والے سائنسدان کا انکشاف

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے کے سابق خلا باز رون گارن نے خلا میں طویل قیام کے بعد زمین کے بارے میں ایک اہم مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت دراصل ایک بڑی غلط فہمی میں زندگی گزاررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا خلائی پروگرام میں تاریخی قدم، چین کے خلائی اسٹیشن پر پاکستانی خلا باز کی شمولیت

رون گارن نے تقریباً 178 دن خلا میں گزارے اور اس دوران زمین کے تقریباً 3000 چکر مکمل کیے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا سے زمین کو دیکھنے کے بعد انسان کی سوچ میں ایک بڑا تبدیلی آتی ہے جسے اوور ویو ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس تجربے کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ معیشت سے زیادہ اہم چیز ماحول اور زمین کا نظام ہے۔

خلا باز کا کہنا تھا کہ زمین کو خلا سے دیکھنے پر واضح ہوتا ہے کہ انسان دراصل ایک ہی سیارے کے مسافر ہیں اور سب ایک ہی نظام سے جڑے ہوئے ہیں، مگر دنیا کے موجودہ نظام میں منافع کو زمین اور ماحول پر ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب دی آربیٹل پرسپیکٹو اور مختلف لیکچرز میں اس تصور کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کے خلا باز اب خلا میں اسمارٹ فون استعمال کریں گے

رون گارن کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ بحث شروع ہو گئی۔ کچھ صارفین نے اس خیال کو انسانیت کے لیے اہم پیغام قرار دیا جبکہ بعض نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ خلا میں طویل قیام کے بعد خلا بازوں کو سب سے زیادہ تازہ پھل اور مشروبات یاد آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق خلا باز کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسانیت کو خود کو ایک مشترکہ عالمی برادری کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ان کے خیال میں دنیا کے بہت سے مسائل دراصل اس سوچ کا نتیجہ ہیں کہ انسان خود کو ایک مشترکہ سیاروی قوم کے طور پر نہیں دیکھتا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی خلابازوں کی واپسی مؤخر، خلائی ملبے کے ممکنہ ٹکراؤ کا شبہ

رون گارن کا کہنا ہے کہ جب انسان خلا سے نظر آنے والی حقیقت کو سمجھ لے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زمین ایک نازک اور محدود نظام ہے جہاں تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس سیارے کا تحفظ ہی دراصل انسانیت کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں