امریکا نے بھارت کے لیے روسی خام تیل کی خریداری پر 30 دن کی رعایتی مدت جاری کر دی ہے، حالانکہ پچھلے ماہ بھارت پر روسی خام تیل خریدنے کے لیے 25 فیصد ’جرمانے‘ کے ٹیرف عائد کیے گئے تھے۔
یہ اقدام ایران میں جنگ کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔
اس خبر کے اثرات عالمی مارکیٹ میں فوری طور پر ظاہر ہوئے، جہاں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی ڈبلیو ٹی آئی تیل کی قیمت 8.51 فیصد یعنی 6.35 ڈالر بڑھ کر 81.01 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو مئی 2020 کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سب سے بڑی اضافہ ہے۔
President Trump’s energy agenda has resulted in oil and gas production reaching the highest levels ever recorded.
To enable oil to keep flowing into the global market, the Treasury Department is issuing a temporary 30-day waiver to allow Indian refiners to purchase Russian oil.…
— Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) March 6, 2026
عالمی معیار کا برینٹ تیل 4.93 فیصد یا 4.01 ڈالر بڑھ کر 85.41 ڈالر فی بیرل پر پہنچا۔
بھارت دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریفائنر اور خام تیل کی مصنوعات کا 5واں سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، اس لیے روسی تیل کی خریداری پر یہ رعایت عالمی سپلائی کے خدشات کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
جمعہ کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد گِر گئیں اور بالترتیب 84.42 اور 79.92 ڈالر فی بیرل پر تجارت ہو رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ملک بھارت روسی تیل کی خریداری کو خلیج سے تیل کی سپلائی سے بدل رہا تھا، لیکن حالیہ تنازع کی وجہ سے وہ دوبارہ ماسکو سے توانائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریفائنرز پچھلے ہفتے کے آخر سے فوری روسی خام تیل کی تلاش میں سرگرم ہیں، مارکیٹ کی اطلاعات کے مطابق، بھارت نے پچھلے 2–3 دنوں میں 6–8 ملین بیرل روسی تیل خریدا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ عارضی اقدام روس کو مالی فائدہ فراہم نہیں کرے گا کیونکہ یہ صرف سمندر میں پھنسے ہوئے تیل کے لین دین کی اجازت دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگی، نریندر مودی
امریکی حکومت بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو قابو میں کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں خلیج میں جہاز رانی کرنے والے ٹینکرز کے لیے سیاسی خطرے کی انشورنس بھی شامل ہے۔
امریکا میں خام تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ میں تنازع کے باعث پچھلے ہفتے تقریباً 20 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا نے بھارت کی قیادت میں قائم انٹرنیشنل سولر الائنس سے علیحدگی اختیار کرلی، مودی سرکار کو بڑا دھچکا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تیل پر دباؤ کم کرنے کے لیے مزید اقدامات جلد کیے جائیں گے اور طویل مدت میں امریکی اقدامات خطے اور تیل کی قیمتوں کی استحکام میں نمایاں اضافہ کریں گے۔
تاہم توانائی کے ماہرین کے مطابق، یہ رعایتی مدت ایک ریلیف والو کے مترادف ہے، کیونکہ خلیج کے ممالک سے تقریباً 20 ملین بیرل فی دن کی تیل کی کمی ہو گئی ہے۔
تاہم 30 دن کی یہ رعایت ناکافی ہے اور واشنگٹن ابھی تک ’گولی کے زخم پر پٹی چسپاں کرنے‘ جیسا کام کررہا ہے۔
بھارتی صورتحال
انرجی انٹیلیجنس فرم ریسٹڈ کے مطابق، بھارت کے پاس تقریباً 100 ملین بیرل کا ذخیرہ موجود ہے، جو 45 دن کی تیل کی ضرورت پوری کر سکتا ہے، اگلے 3–4 ہفتوں میں بھارتی ریفائنریز متاثر نہیں ہوں گی، مگر اگر خلیج میں رکاوٹ طویل ہو گئی تو خدشات بڑھ جائیں گے۔
متبادل ذرائع جیسے وینزویلا سے سپلائی لینے میں چیلنجز ہیں کیونکہ یہ تیل بھارت پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکااور بھارت میں 10 سالہ دفاعی معاہدہ، کیا یہ چین کی بڑھتی طاقت کا خوف ہے؟
گزشتہ سال اگست میں بھارت پر امریکی ٹیرف 50 فیصد تک بڑھا دیے گئے تھے، جن میں سے 25 فیصد روسی تیل خریدنے پر سزا کے طور پر لگائے گئے تھے، لیکن گزشتہ ماہ یہ سزا اس شرط پر ہٹا دی گئی تھی کہ بھارت روس سے درآمد کم کرے اور زیادہ امریکی توانائی خریدے۔
واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت روسی تیل دوبارہ خریدتا ہے تو جرمانہ دوبارہ عائد کیا جا سکتا ہے۔














