وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی حمایت کے بغیر کسی بھی اضافی بوجھ کو ناقابل قبول قرار دیا اور صوبائی حکومت کی کفایت شعاری اور عوامی فلاح کے اقدامات کا ذکر کیا۔
عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں کرکٹ کی بحالی، بین الاقوامی میچز کی توقعات، اور عوام پر مہنگائی کے بوجھ سے بچاؤ کے لیے حکومت کی پالیسیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کے باعث فیول سپلائی خدشات، عوام پر بوجھ ڈالنے کی حمایت نہیں کریں گے، سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے عوام کے لیے انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ آج ایک دفعہ پھر خیبر پختونخوا کی سرزمین پر کرکٹ بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ٹی ٹونٹی 2026 کا باقاعدہ افتتاح ہو چکا ہے اور اسی اسٹیڈیم میں مستقبل میں پی ایس ایل کے میچز بھی منعقد ہوں گے۔ ان شا اللہ ہم انٹرنیشنل کرکٹ بھی خیبر پختونخوا میں بحال کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وفاقی وزرا برائے خزانہ و پیٹرولیم کے ساتھ میٹنگ میں واضح کر دیا گیا کہ عوام پر کسی قسم کا مہنگائی کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

انہوں نے کرونا کے دوران عمران خان کے سمارٹ لاک ڈاؤن کی مثال دی اور کہا کہ اس وقت پٹرول کی قیمت ایک سو پچاس روپے تھی مگر آج پیٹرول 55 روپے مہنگا ہونے کے باوجود مہنگائی کے حوالے سے کوئی شدید ردعمل نہیں آیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام پر بوجھ ڈالنا درست نہیں، حکمران اپنے لیے فضول اخراجات کر سکتے ہیں لیکن عوام سے قربانی لینا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کسی کے غلام نہیں اور صوبائی حکومت کسی بھی اضافی بوجھ کو برداشت نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری، سیکیورٹی فورسز کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ لاک ڈاؤن یا austerity measures (کفایت شعاری کے اقدامات) کی صورت میں خیبر پختونخوا کی حکومت پہلے سے کفایت شعاری پر عمل پیرا ہے، سرکاری خرچوں اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہے اور کورونا کے وقت پیٹرول پر جو کٹ لگایا گیا تھا وہ آج بھی برقرار ہے۔
آخر میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ رمضان پیکج کے تحت تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد کو امداد دی جا چکی ہے اور پیر کے دن نو لاکھ سے زائد لوگوں تک یہ پیکج پہنچایا جائے گا، جس سے صوبے کے کم آمدنی والے افراد کی فوری مدد ممکن ہوگی۔












