اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2010 میں وفاقی دارالحکومت میں نجی ائیر لائن کے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 5 ارب 41 کروڑ روپے ہرجانے کی رقم ادا کرنے کے ماتحت عدالت کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے اس پر عملدرآمد روک دیا اور فریقین کو جواب جمع کروانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت جنگ کے 3 ماہ بعد انڈین فضائیہ جاگ گئی، 6 پاکستانی جہاز تباہ کرنے کا انوکھا دعویٰ
میڈیا رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے نجی ائیر لائن کی درخواست پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے 13 دسمبر 2025 کے فیصلے کو معطل کر دیا، جس میں متاثرین کو تقریباً ساڑھے پانچ ارب روپے ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت نے نجی ائیر لائن کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل ہر سماعت پر پیش ہوں، ورنہ حکمِ امتناع واپس لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے فریقین کو 23 اپریل تک جواب جمع کروانے کی ہدایت بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں:مئی میں ہونے والی جھڑپ میں پاکستانی فضائیہ نے ہمارے جہاز تباہ کیے، بھارتی دفاعی اتاشی کا اعتراف
واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے نجی ائیر لائن کی 12 دسمبر 2022 کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کی تھی۔ عدالت نے حادثے کے متاثرین کی فیملیز کی اپیلیں منظور کی تھیں اور نجی ائیر لائن کی 8 اپیلیں خارج کرتے ہوئے اسے ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ نجی ائیر لائن نے 13 دسمبر 2025 کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔













