محلے میں گھوم پھر کر روایتی انداز میں سحری کے لیے لوگوں کو جگانے والی ماں اور اس کا بیٹا

اتوار 15 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 رپورٹ: احتشام الحق

برسوں پرانی روایت آج بھی زندہ ہے، ایک ماں اور اس کا بیٹا سحری کے وقت گلی گلی، محلہ محلہ جا کر روزہ داروں کو جگاتے ہیں۔

علی پور کے اس جوڑے کا ہر رمضان میں یہی معمول ہے۔ رات کے آخری پہر وہ موٹر سائیکل پر مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور اپنی روایتی آوازوں سے لوگوں کو سحری کے لیے بیدار کرتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے اس روایت پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے؛ کچھ لوگ اسے سراہتے ہیں تو کچھ اسے ایک منفرد اور نایاب روایت قرار دیتے ہیں۔

بیٹے نے بتایا، ’یہ کام ہم کافی عرصے سے کر رہے ہیں، میری والدہ بھی ہر بار میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ لوگوں کو سحری کے لیے جگاتے ہوئے دل کو سکون ملتا ہے۔ یہ کام میں بچپن سے کر رہا ہوں۔‘

ان کی والدہ نے کہا، ’میرے شوہر کے انتقال کے بعد یہ خیال آیا کہ رمضان میں روزہ داروں کو سحری کے لیے جگایا جائے۔ تب سے آج تک ہم دل کی تسلی اور عبادت کے جذبے سے یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

تیزی سے بدلتے ہوئے شہروں میں، یہ ماں بیٹا آج بھی سحری جگانے کی پرانی روایت کو جیتے جاگتے انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو نہ صرف ایک رسم بلکہ محبت اور خدمت کا پیغام بھی دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی