صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان کراچی میں ہونے والی حالیہ ملاقات نے سندھ، بالخصوص کراچی کے سیاسی میدان میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے نازک وقت پر ہوئی ہے جب وفاق نے ایم کیو ایم پاکستان کے گورنر کامران ٹیسوری کو ہٹا کر مسلم لیگ (ن) کے نہال ہاشمی کو نیا گورنر سندھ مقرر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم کی طاقت عوام ہیں، خالد مقبول کا حکومت کے ساتھ اعتماد میں کمی کا اعتراف
یاد رہے کہ گورنر سندھ کے عہدے پر گزشتہ چند برسوں سے کامران ٹیسوری فائز تھے جو ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں کراچی کی سیاست میں پارٹی کا ایک اہم نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ حال ہی میں وفاقی حکومت نے انہیں ہٹا کر نہال ہاشمی کو نیا گورنر سندھ مقرر کیا ہے، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد کراچی اور سندھ کی سیاست میں نئی صف بندیوں اور سیاسی کشیدگی کے امکانات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
کراچی میں سیاسی صف بندی، زرداری، نقوی اور خالد مقبول کی اہم بیٹھک
کراچی میں صدر آصف علی زرداری سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی۔

بظاہر اس ملاقات کا ایجنڈا ملک کی داخلی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال تھا، لیکن سیاسی حلقے اسے گورنر سندھ کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
گورنر سندھ کی تبدیلی اور کراچی کا سیاسی رخ
گورنر ہاؤس سندھ میں کامران ٹیسوری کی جگہ نہال ہاشمی کی آمد نے کراچی کی سیاست میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور سینئیر صحافی ارمان کا خیال ہے کہ کامران ٹیسوری کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کو کراچی کی انتظامی معاملات میں جس مزاحمت کا سامنا تھا، نہال ہاشمی کی تعیناتی سے وہ کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’محاذ آرائی کی سیاست نہیں کریں گے‘، نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کا حلف اٹھالیا
ان کا کہنا ہے کہ نہال ہاشمی کی تعیناتی سے ن لیگ نے سندھ میں اپنا سیاسی قدم دوبارہ جمانے کی کوشش کی ہے، جو کہ براہِ راست ایم کیو ایم کے روایتی ووٹ بینک اور سیاسی مقام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ایم کیو ایم پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی راشد قرار کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے لیے حالیہ تبدیلی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اس فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے علیحدگی تک کی تجویز دے دی ہے۔

ایم کیو ایم کے مستقبل کے حوالے سے انکا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم یہ سمجھتی ہے کہ گورنر کا عہدہ ان کا آئینی اور روایتی حق تھا، جسے چھین کر انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر یہ تحفظات دور نہ ہوئے تو ایم کیو ایم وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
راشد قرار کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر مختلف دھڑے (بہادر آباد اور مصطفیٰ کمال گروپ) اس تبدیلی پر الگ الگ موقف رکھتے ہیں۔ گورنر کی تبدیلی سے پارٹی کے اندرونی اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ کراچی کے عوام جو پہلے ہی بلدیاتی مسائل اور اسٹریٹ کرائم سے نالاں ہیں، ایم کیو ایم سے توقع کر رہے تھے کہ وہ حکومت میں رہ کر ریلیف دلائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:سوالوں کے جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، فاروق ستار
گورنر ہاؤس جیسے بڑے پلیٹ فارم سے محرومی کے بعد ایم کیو ایم کے لیے اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔
تجزیہ کار رفعت سعید کے مطابق صدر زرداری کی محسن نقوی اور خالد مقبول سے ملاقات کا مقصد ایم کیو ایم کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ انہیں سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا رہا۔
تاہم پیپلز پارٹی کا کراچی کے بلدیاتی اور انتظامی امور پر بڑھتا ہوا کنٹرول اور ن لیگ کے نئے گورنر کی موجودگی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کراچی کی سیاست میں پی پی پی اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ زیادہ مضبوط ہوگا، جبکہ ایم کیو ایم کو اپنی بقا کے لیے ایک نئی اور سخت سیاسی جدوجہد کرنی پڑے گی۔














