سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی بحرانوں میں پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطی میں ایک بڑی مسلم طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وسط ایشیائی ممالک کے لیے پاکستان امید کی کرن، سمندری راستے کس طرح تجارت کو بڑھا سکتے ہیں؟
وی نیوز کے پروگرام وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں تین بڑے ممالک امریکا، روس اور چین کے بعد ایشیا میں جو 5 بڑی مسلمان طاقتیں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور انڈونیشیا ہیں ان میں پاکستان کا سب سے کلیدی کردار ہے جس کی وجوہات جغرافیہ، کردار اور فوجی صلاحیت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں قوانین ختم ہو گئے ہیں۔ اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کی کتنی قوت ہے، کتنی صلاحیت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کتنا حوصلہ اور ہمت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تینوں چیزوں کے ساتھ اب پاکستان صرف جنوبی ایشیا میں نہیں بلکہ مشرق وسطی میں بھی مرکزی پلئیر اور ’نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر‘ (تحفظ فراہم کرنے والے ملک) کے طور پر ابھرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس حوالے سے اہمیت جلد مزید اجاگر ہو گی۔
مزید پڑھیے: خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے، شمائلہ رانا
مشاہد حسین سید نے کہا کہ خلیجی ممالک اور مسلم دنیا کا اعتماد امریکا سے اٹھ گیا ہے اور وہ پاکستان اور ترکیہ پر زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سنہ 1971 میں سیکھ لیا تھا کہ جارحیت کے وقت اپنا دفاع خود کرنا ہوتا ہے۔ آپ کے معاہدے ہوں تو بھی کوئی آپ کی مدد کے لیے نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں پچھلے 30،40 برسوں سے مشکل صورتحال رہی ہے، افغانستان میں دو دفعہ فوج کشی ہوئی، ایک دفعہ روسی آئے پھر نکالے گئے، پھر جنگ ہوئی، امریکی آئے وہ نکالے گئے، ابھی بھی گڑبڑ ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان تزویراتی طور پر خطہ میں مواصلاتی محور اور توانائی کی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے، عامر شوکت
وہ کہتے ہیں کہ اسی خطے میں ایران میں انقلاب آیا ہے اور اسی خطے میں 3 خلیج جنگیں ہوئیں اور اب چوتھی بار یہ آپ کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی خطے میں ایک سپر پاور ختم ہوئی اور اس کا نقشہ تبدیل ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف 3 مرتبہ جارحیت کی کوشش کی اور بڑی چھوٹی جنگیں ہوئیں، بھارت کے ساتھ۔ تو ہمیں اپنا بچاؤ خود کرنا ہے اور اس لیے ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی۔
مشاہد حیسن نے کہا کہ یہ بات اب خلیجی ریاستوں کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ اڈے بھی دیے، انہوں نے ہتھیار بھی لیے، پیسے بھی دیے لیکن جب وقت آیا تو امریکا نے اسرائیل کے دفاع کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دولت نہیں ہے، لیکن اس کا اثر ورسوخ ضرور ہے۔ اور اس کی طاقت اس کے قدرتی وسائل، اس کے قیام کا نظریہ اور قائداعظم کی اسلامی ریاستوں کے متعلق سوچ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے لئے مواقع ہیں جن میں ایک معاشی ہے، ایک سیکیورٹی کے لحاظ سے ہے جبکہ تیسرا اسٹریٹیجک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹیجک موقع اس لیے ہے کیونکہ اس جنگ کے 2 نتائج ہیں، ایک تو ہے کہ اسرائیل سب سے بڑا نمبر ون دشمن ہے اس خطے میں امن کا، دوسرا ہے کہ امریکا پر جو مکمل اعتماد کا رشتہ تھا کہ 100 فیصد سارے انڈے امریکی ٹوکری میں ڈالیں، اس کی نظرثانی ہوگی کہ امریکا بااعتماد ساتھی نہیں ہے اور ان کا دفاع نہیں کر سکتا تو اس پر ان کی نگاہ اسلام آباد کی طرف ہوگی کہ پاکستان مسلم بھائی بھی ہے، پاکستان باعتماد ساتھی بھی ہے اور پاکستان مشکل وقت میں ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا موقع ہے اقتصادی جو پہلے ایک بڑا تھا لوگوں کا کہ جی دبئی چلو، دبئی پرامن جگہ ہے، خوشحالی کا ایک جزیرہ ہے اور اپنی انویسٹمنٹ ساری دبئی میں کرو۔
یہ بھی پڑھیے: پاک افغان کشیدگی: پاکستان کی فوجی طاقت کے مقابلے میں کابل کے پاس کونسے آپشنز باقی ہیں؟
مشاہد حسین نے کہا کہ میرے خیال میں ریورس گئیر لگے گا، لوگ واپس بھی آئیں گے، لوگ پیسہ لگانا چاہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اس میں کھلے عام واضح کریں کہ جو لوگ آنا چاہتے ہیں، پیسہ لے کر وہ سرمایہ کاری کریں پاکستان میں، ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں، ریڈ ٹیپ سے فراغت ہوگی، اور تم واپس آجاو، تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک قسم کی عام معافی بھی ڈیکلئر کریں تاکہ یہ ہماری معیشت اسی موقعے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔
امریکا کا سپرپاور والا رعب دفن ہو گیا
ایک سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ امریکا کا سپر پاور کا امیج دفن ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سپر پاور صرف ٹینکوں، جہازوں، ایئرکرافٹ کیریئر سے، فوجی طاقت سے نہیں ہوتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا ایک بھرم بھی ہوتا ہے، اس کا ایک رعب کہہ لیں، دبدبا یا اب عوامی زبان میں دہشت کہہ لیں۔
مشاہد حسین نے کہا کہ جس طرح سوویت یونین کا بھرم اور دہشت افغانستان کے پہاڑوں میں شکست کھا کر نکلا اسی طرح امریکا کا ایک بڑا رعب اور دبدبا تھا لیکن ایران کے ساتھ لڑائی میں وہ رعب اور دبدبا، وہ سپر پاور کا سلسلہ ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات کو ’جھوٹا بیانیہ‘ قرار دے دیا
انہوں نے کہا کہ اب امریکا منتیں کر رہا ہے چین کی، برطانیہ کی، دوسرے لوگوں کی۔ ہماری مدد کرو، آبنائے ہرمز کھلوانے میں تو میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کا جو سپر پاور کا سٹیٹس ہے، وہ اب اس خلیجی جنگ میں دفن ہو گیا ہے۔
مشاہد حسین نے کہا کہ برطانیہ اور یورپ جو امریکا کے نیٹو حلیف ہیں اور ایک اشارے پر بھاگے آتے تھے انہوں نے اب انکار کر دیا ہے اور یہ حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی لابی کا پریشر ڈونلڈ ٹرمپ پہ اتنا زیادہ تھا اور اتنا زیادہ ہے کہ وہ اس جنگ کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، ان کو پھنسا دیا گیا ہے، ان کو جھانسہ یہ بھی دیا گیا کہ یہ دو تین دن کی مار ہے، ہم ان کی قیادت کو ختم کر دیں گے، اور حکومت 3،4 دن میں ختم ہو جائے گی۔ تو وہ سارے مفروضے غلط ثابت ہوئے۔‘
مشاہد حسین نے کہا کہ اب ٹرمپ کے اپنے ایڈوائزر بھی اس کو کہہ رہے ہیں کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کوئی جنگ نہیں کریں گے، جنگیں شروع ہو گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے کہا تھا امریکا فرسٹ، اب اسرائیل فرسٹ کی پالیسی آگئی ہے۔
انڈیا اور افغانستان کا گٹھ جوڑ نہیں بننے دینا چاہیے
مشاہد حسین پاکستان کی افغانستان میں کاروائیوں کے متعلق بات کرتے ہوئے مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔ تاہم ہمیں سفارت کاری کا آپشن بھی کھلا رکھنا چاہیئے اور صرف عسکری کاروائیاں نہیں کرنی چاہیئں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جو معاملہ ہے یہ فوری طور پر حل ہونے والا نہیں ہے اور اس میں ہماری یہ اسٹریٹیجی ہونی چاہیے کہ ایک، انڈیا اور افغانستان کا گٹھ جوڑ نہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرا یہ کہ ہم اپنی سالمیت کا، اپنی سرحدوں کا مؤثر دفاع کرسکیں اور تیسرا ہم انٹرنیشنلائز بھی کریں کہ یہ جو ایشو ہے یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں ہے، دہشتگردی کا، یہ علاقائی ایشو بھی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقائی مسئلے سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ عدم استحکام پیدا ہو۔
نیتن یاہو اور مودی نظریاتی بھائی بھائی ہیں
خطے میں انڈیا کے منفی کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے مشاہد حسین نے کہا کہ نیتن یاہو اور مودی نظریاتی بھائی بھائی ہیں۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا، پاکستان نے افغان طالبان کا دعویٰ مسترد کردیا
انہوں نے کہا کہ کوئی بعید نہیں کہ انہوں نے امریکا کو انٹیلیجنس دی ہو کہ یہ ایرانی جہاز آیا ہے، اس کو اڑا دو۔
انہوں نے کہا کہ حالانکہ اس جہاز میں فوجی کوئی چیز نہیں تھی، ایک تربیتی جہاز تھا اور انڈیا نے مدعو کیا تھا تو انڈیا کا کردار بڑا منفی ہے اور ہمارے خلاف جو جارحیت ہوئی تھی انڈیا کی اس میں اسرائیل نے ساتھ دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب غزہ میں قتل عام ہوا ہے تو اس میں انڈیا نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو وہ بلکل شامل جرم ہے اور ان کی سوچ ایک ہی ہے اور دونوں مشرق وسطٰیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔
چین کا کلیدی کردار
چین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین کا بڑا کلیدی کردار ہے کیونکہ وہ اس خطے کا ایک حصہ ہے اور اس کے ایران کے ساتھ بھی اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔











