وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر ایک نئے سکھر روہڑی پل کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سکھر اور روہڑی کے ساتھ ساتھ ملحقہ علاقوں کو بہتر طور پر منسلک کرنا اور موجودہ راستوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
یہ اعلان 51ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت خود وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔
اجلاس میں سندھ میں بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منظوری کے علاوہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اصلاحات کی بھی منظوری دی گئی۔
نئے پل کی تفصیلات کے مطابق یہ قریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل اور ملٹی لین ہوگا، جس میں بھاری گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے الگ راستے شامل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یہ پل نہ صرف ٹریفک کے رش کو کم کرے گا بلکہ سکھر اور روہڑی کے درمیان اقتصادی اور شہری رابطے کو مضبوط کرے گا۔
وزیر بلدیات ناصر شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ مرکزی گزرگاہ، لینس ڈاؤن پل، سکھر بیراج کی مرمت کے باعث کم از کم 2027 تک عوامی آمد و رفت کے لیے بند رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھاری گاڑیوں کو اس پل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ اس پر ٹریفک کے دباؤ سے ایمبولینس اور ایمرجنسی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ نئے پل کے بعد ٹریفک جام اور رش میں واضح کمی متوقع ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے نئے سکھر روہڑی پل کے لیے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فیسلیٹی کی بھی منظوری دی ہے تاکہ منصوبے کی ابتدائی تیاری اور عملدرآمد جلد ممکن ہو سکے۔













