امریکا نے 50 ممالک کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کردیے

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے سیاحتی اور کاروباری ویزوں کے حصول کے لیے نئے سخت قوانین متعارف کرا دیے ہیں جن کے تحت اب 50 ممالک کے شہریوں کو ویزا درخواست دیتے وقت 15  ہزار ڈالر کی قابلِ واپسی ضمانت جمع کرانا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے امیگریشن پالیسی سخت کرنے کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ نئی توسیع کے بعد مزید 12 ممالک کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل 38 ممالک پہلے ہی اس فہرست میں موجود تھے۔

نئے ضابطے کے تحت یہ شرط خاص طور پر مختصر مدت کے کاروباری اور سیاحتی ویزوں پر لاگو ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو ویزا مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں قیام جاری رکھتے ہیں۔

حکام کے مطابق اگر ویزا ہولڈر مقررہ مدت پوری ہونے پر واپس اپنے ملک چلا جائے یا ویزا حاصل کرنے کے باوجود سفر نہ کرے تو جمع کرائی گئی 15 ہزار ڈالر کی رقم واپس کردی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد مزید سخت کردیے گئے

جن نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں کمبوڈیا، ایتھوپیا، جارجیا، گریناڈا، لیسوتھو، ماریشس، منگولیا، موزمبیق، نکاراگوا، پاپوا نیو گنی، سیشلز اور تیونس شامل ہیں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ویزا بانڈ پروگرام سے غیر قانونی قیام کی شرح کم کرنے میں مدد ملی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سفر کی آزادی اور قانونی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ اقدام امریکا کی وسیع تر سخت امیگریشن حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں ویزوں کی منسوخی، ملک بدری کی کارروائیاں اور درخواست دہندگان کی مزید سخت جانچ پڑتال بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟