بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں قرض اور دھمکیوں سے تنگ آ کر ایک شخص نے اپنی ہی بیوی اور 3 معصوم بیٹیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ شمال مغربی دہلی کے ایک کمرے کے چھوٹے سے مکان میں پیش آیا، اس علاقے سے ایک پی سی آر کال موصول ہوئی جس میں گھر کے اندر کسی ناخوشگوار صورتحال کی اطلاع دی گئی۔ جب پولیس موقع پر پہنچی تو منظر انتہائی خوفناک تھا۔ 30 سالہ انیتا اور اس کی 3 ننھی بیٹیاں، جن کی عمریں صرف 3، 4 اور 5 سال تھیں، مردہ حالت میں پڑی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں گھریلو ملازمہ نے مالکن کے 2 سالہ کم سن بیٹے کو کیوں قتل کیا؟
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چاروں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کو فوراً شبہ مقتولہ کے شوہر، 42 سالہ منچن کیوت، پر ہوا جو موقع سے فرار ہو چکا تھا۔ منچن کیوت آزاد پور منڈی میں سبزی فروش کے طور پر کام کرتا تھا اور واقعے کے بعد اس کی گمشدگی نے اسے مرکزی ملزم بنا دیا۔
پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے ایک خصوصی مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 800 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا اور فیشل ریکگنیشن سسٹم (FRS) کے ذریعے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ اس دوران پولیس ٹیمیں بہار، تمل ناڈو اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں بھیجی گئیں تاکہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
قاتل کا اعتراف جرم
72 گھنٹے کی مسلسل اور بھرپور کوششوں کے بعد پولیس کو بڑی کامیابی اس وقت ملی جب ملزم کو راجستھان کے شہر کشن گڑھ سے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران منچن کیوت، جو آشیش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور مسلسل قرض اور جوئے میں ہارنے کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں تھا۔
اس کے مطابق 23 فروری کو متھیلیش نامی شخص کی جانب سے قرض کی واپسی کے لیے فون آیا، جس میں نہ صرف پیسے مانگے گئے بلکہ مبینہ طور پر اس کی بیوی اور بچوں کو لے جا کر ان سے کام کروانے کی دھمکی بھی دی گئی۔ اس دھمکی نے ملزم کو شدید غصے اور انتقام کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔
ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اسی دن اس نے 90 روپے کے عوض ایک چاقو خریدا اور قتل کا منصوبہ بنایا، تاہم وہ اس دن ایسا نہ کر سکا۔ اگلے دن یعنی 24 فروری کو جب اس کی بیوی نے بتایا کہ متھیلیش نے دوبارہ فون کیا ہے، تو دونوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا۔
رات کے وقت بیوی بچوں کے ساتھ سو گئی جبکہ ملزم ساری رات جاگتا رہا اور اپنے خوفناک منصوبے پر غور کرتا رہا۔
آخرکار 25 فروری کی صبح تقریباً 4 بجے اس نے چاقو اٹھایا اور پہلے اپنی بیوی کا گلا کاٹا۔ شور سن کر اس کی بڑی بیٹی جاگ گئی اور رونے لگی، جس پر اس نے اسے بھی قتل کر دیا، اور پھر یکے بعد دیگرے اپنی باقی 2 معصوم بیٹیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بعد ازاں اس نے خودکشی کا بھی سوچا لیکن اس کے لیے ہمت نہ کر سکا۔
قتل کے بعد ملزم فرار ہو کر اجمیر پہنچ گیا، جہاں اس نے کچھ وقت گزارا، حتیٰ کہ وہ دوبارہ سبزی منڈی بھی گیا اور ایک ٹھیکیدار کو تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہا۔ بعد ازاں وہ بازار میں سویا، سڑک کنارے کھانا کھایا اور مسلسل فرار ہونے کی کوشش کرتا رہا۔ تاہم پولیس کی مسلسل نگرانی اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے اس کے تمام راستے بند کر دیے اور بالآخر اسے گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے مدھیہ پردیش میں 16 سالہ لڑکے کا لرزہ خیز قتل، قاتل کی وحشیانہ حرکتیں
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کا ماضی بھی مجرمانہ سرگرمیوں سے جڑا ہوا تھا۔ وہ 2025 میں چوری کے ایک کیس میں ملوث پایا گیا تھا۔ وہ آن لائن و آف لائن جوئے کا عادی تھا۔ اس نے حال ہی میں اپنے سسرال سے 2 لاکھ روپے لیے تھے، جن میں سے زیادہ تر رقم جوئے میں ہار دی، جبکہ کچھ قرض واپس کرنے میں خرچ ہوئی۔
پولیس کے مطابق ملزم اس وقت حراست میں ہے اور مزید تفتیش جاری ہے، جس میں قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی برآمدگی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، جوئے کی لت اور گھریلو تشدد جیسے سنگین مسائل کی ایک خوفناک مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے ایک پورے خاندان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔













