گل پلازہ آتشزدگی کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کمیشن کے سوالنامے کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے، جس میں ریسکیو آپریشن اور انتظامی اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔
جمع کرائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی کے ایم سی فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کیا گیا، جبکہ ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مکمل انتظامی معاونت فراہم کی گئی۔ صورتحال کی نگرانی اور متاثرین کی مدد کے لیے فسیلیٹیشن ہیلپ ڈیسک اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر بھی فعال کیا گیا۔
مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن اجلاس، عینی شاہدین نے کیا بتایا؟
رپورٹ کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر جاری گرین لائن منصوبے کے باعث ٹریفک دباؤ موجود تھا، تاہم ٹریفک پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے راستے کلیئر کیے، جس کے بعد امدادی گاڑیاں بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جائے وقوعہ تک پہنچ گئیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق عمارت کے اسٹرکچرل معاملات اور فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم ابتدائی مشاہدے میں آگ کی شدت عمارت کے اندر آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث بڑھی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج نے واقعے کی انکوائری کی، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی غفلت نہیں برتی گئی اور تمام ذمہ داریاں بروقت ادا کی گئیں۔
متاثرہ افراد اور قانونی ورثا کی تصدیق کے لیے دستاویزی جانچ اور تنازعات کے حل کے لیے کمیٹیاں قائم کی گئیں تاکہ معاوضوں کی شفاف ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید برآں، ایس بی سی اے اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ضلع جنوبی میں کمرشل عمارتوں اور شاپنگ مالز کے فائر سیفٹی آڈٹس بھی کیے گئے۔
دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے مقررہ مدت میں ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 10 مارچ کو بورڈ آف ریونیو کو 13 مارچ تک ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازا: دکانداروں کو کن مقامات پر اسٹالز دے دیے گئے؟
کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ 25 مارچ تک گل پلازہ سے متعلق مکمل ریکارڈ، بشمول ریونیو اندراجات، منتقلی، رجسٹریاں، نوٹیفکیشنز اور دیگر دستاویزات وضاحت کے ساتھ پیش کیے جائیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔













