بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ ناروے کے دوران ایک نارویجن صحافی کے سوالات نے بھارت میں میڈیا آزادی اور حکومتی شفافیت سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خاتون نارویجین صحافی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مودی سے سوال کیا کہ وہ آزاد میڈیا کے سوالات لینے سے کیوں گریز کرتے ہیں، تاہم بھارتی وزیرِ اعظم بغیر جواب دیے کانفرنس ہال سے باہر چلے گئے۔
Primeminister of India, Narendra Modi, would not take my question, I was not expecting him to.
Norway has the number one spot on the World Press Freedom Index, India is at 157th, competing with Palestine, Emirates & Cuba.
It is our job to question the powers we cooperate… pic.twitter.com/vZHYZnAvev
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026
نریندر مودی 2 روزہ دورے پر ناروے پہنچے تھے جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم یونس گاراسٹورا سے ملاقات اور انڈیا-نورڈک سمٹ میں شرکت کی۔
رپورٹس کے مطابق مودی نے اپنے 12 سالہ دورِ اقتدار میں بھارت کے اندر ایک بھی کھلی پریس کانفرنس نہیں کی، جبکہ بیرونِ ملک دوروں میں بھی صحافیوں کے سوالات کا سامنا شاذ و نادر ہی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل سروے نے پول کھول دیا، نریندر مودی کی عالمی مقبولیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے
نارویجن صحافی نے بعد ازاں بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری (ویسٹ) سبی جارج سے بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کیے۔
جواب میں سفارتکار نے براہِ راست سوال کا جواب دینے کے بجائے بھارت کی تہذیب، یوگا، شطرنج اور کورونا وبا کے دوران دیگر ممالک کو فراہم کی جانے والی امداد کا ذکر کیا۔
THIS IS PEAK WHATABOUTERY 🔥
REPORTER: Why should Norway trust India when fundamental rights are being violated?
MEA: We have Gandhi, ancient civilisation, and a Constitution that guarantees fundamental rights.
REPORTER 🎯: Exactly. I know India has fundamental rights. That is… pic.twitter.com/bL7dtdKTgX
— Mr Sharma (@sharma_views) May 19, 2026
جب صحافی نے دوبارہ انسانی حقوق سے متعلق سوال اٹھایا تو بھارتی سفارتکار واضح طور پر برہم دکھائی دیے۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث شروع ہوگئی۔ بعض افراد نے صحافی کے انداز کو جارحانہ قرار دیا جبکہ کئی صحافیوں اور سیاسی مبصرین نے بھارتی حکومت پر تنقید کی کہ وہ مشکل سوالات سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام کا ایک سال: کانگریس کی نریندر مودی کی پالیسیوں پر شدید تنقید، خارجہ پالیسی ناکام قرار
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر چھپانے کو کچھ نہ ہو تو سوالات سے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
ادھر عالمی تنظیموں کے مطابق بھارت میں میڈیا پر دباؤ، آن لائن ہراسانی، قانونی کارروائیوں اور سنسرشپ کے بڑھتے رجحانات کے باعث صحافیوں کے لیے آزادانہ رپورٹنگ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر موجود ہے، جس پر عالمی صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔












