کیا ٹرمپ صاحب کا امریکا واقعی ’عظیم‘ بن گیا؟

جمعہ 20 مارچ 2026
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

‘I alone can fix it.’

’میں اکیلا ہی اسے ٹھیک کر سکتا ہوں۔‘
یہ صرف ایک انتخابی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک پورا سیاسی فلسفہ تھا، ایک تصور جس میں ایک شخص خود کو قوم کی تقدیر بدلنے والا نجات دہندہ سمجھتا ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی قوم سے ایک ہی وعدہ دہراتے آئے ہیں:

’امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے‘۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکا عظیم ہوا، یا یہ نعرہ خود ایک سیاسی فریب میں بدل گیا؟

ٹرمپ کی تقاریر اور بیانات کا جائزہ لیا جائے تو ان کے ’عظمت‘ کے تصور کے چند بنیادی ستون واضح نظر آتے ہیں۔

ان کے نزدیک ایک ’عظیم امریکا‘ وہ ہے  جو معاشی طور پر خود کفیل ہو، جہاں صنعتیں واپس آئیں، جہاں سرحدیں مضبوط ہوں، اور جہاں عالمی سطح پر امریکا کسی سے دب کر نہیں بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔

وہ بارہا کہتے رہے کہ پچھلے حکمرانوں نے امریکا کو کمزور کیا، خراب تجارتی معاہدے کیے، اور اتحادیوں کے بوجھ تلے ملک کو دبا دیا۔

پھر جب ٹرمپ صاحب ایوان اقتدار میں داخل ہوئے، انھوں نے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی۔ ٹیکس کم کیے، مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی، اس کی خاطر چین سمیت کئی ممالک کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ دی۔ امیگریشن کے قوانین کو سخت بنایا اور ’سب سے پہلے امریکا ‘ کو خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول بنایا۔ ان اقدامات سے بظاہر معیشت کو کچھ عرصے کے لیے تقویت ملی اور بے روزگاری کم ہوئی۔

لیکن ان صاحب کے دوسرے دورِ اقتدار میں جو طرزِ حکمرانی سامنے آیا، اس نے دنیا کو واقعی ششدر کر دیا۔

انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’لامتناہی جنگیں‘ ختم کریں گے، مگر اس مقصد کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ سفارت کاری کے روایتی اصولوں سے یکسر مختلف تھا۔

دنیا کے طاقتور حکمرانوں کو براہِ راست دھمکیاں دینا، سخت بیانات جاری کرنا اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کرنا ان کی پالیسی کا حصہ بن گیا۔ روسی صدر سے لے کر دیگر عالمی رہنماؤں تک، ہر ایک کے ساتھ ان کا سلوک ایسا تھا گویا بین الاقوامی تعلقات بھی کاروباری سودے بازی کی طرح چلائے جا سکتے ہیں۔

ظاہر ہے، عالمی سیاست ’کاروباری سودے بازی‘ نہیں ہوتی لیکن ٹرمپ یہی سمجھتے رہے۔ عالمی سیاست میں ہرجگہ گن بھی نہیں دکھائی جاسکتی لیکن ٹرمپ صاحب یہی سمجھتے رہے۔ چنانچہ ان کی دھمکیوں کا وہ اثر نہ ہوا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ معلوم نہیں اس مرحلے پر وہ کچھ شرمندہ ہوئے ہوں گے یا نہیں۔ رہی بات سبق سیکھنے کی، وہ ان کی شرست ہی میں نہیں۔

اکثر ممالک نے ان بیانات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے نظر انداز کیا، اور بعض نے تو اسے کھلے عام چیلنج بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکا کی روایتی سفارتی ساکھ متاثر ہوئی اور اتحادی بھی فاصلے پر کھڑے نظر آنے لگے۔

اسی طرح ٹرمپ نے عالمی تجارت میں بھی سخت اور دھمکی آمیز انداز اختیار کیا۔ مختلف ممالک کی برآمدات پر بھاری ٹیرف لگانے کی کوشش کی۔ حالانکہ بین الاقوامی تجارت میں اس قسم کے فیصلے عموماً مذاکرات، تدبر اور باہمی رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس طرزِ عمل نے نہ صرف تجارتی کشیدگی کو بڑھایا بلکہ کئی ممالک کو متبادل اقتصادی شراکت دار تلاش کرنے پر بھی مجبور کیا۔

ان کی خارجہ پالیسی کا سب سے متنازع پہلو ان کی خلیج میں جنگی حکمت عملی رہی۔

انھوں نے گزشتہ برس ایک محدود تصادم کے بعد امسال ایک بڑی جنگ کا آغاز کیا، حالانکہ ان کے اپنے قریبی ساتھی بھی اس راستے سے اجتناب کا مشورہ دیتے رہے۔ کوئی جائے اور  نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سنٹر کے حال ہی میں سابق ہوجانے والے ڈائریکٹر ’جو کینٹ‘ سے پوچھ لے کہ ان کی رائے کیا تھی، کوئی جائے اور ذرا پینٹاگان کے  سابق اعلیٰ اہلکار ڈان کلاڈویل سے پوچھ لے کہ وہ کیا رائے رکھتے تھے۔ کوئی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دل کا حال پوچھ لے کہ کیا وہ بھی خلیجی خطے میں کود جانے کے حق میں تھے؟ ان سب کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ اپنی روش پر قائم رہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی بے یقینی نے بھی جنم لیا۔ امریکا کے اندر بھی اس کے اثرات شدید تھے۔ مہنگائی میں اضافہ ہوا، عوامی بے چینی بڑھی اور سیاسی تقسیم مزید گہری ہو گئی۔

ایک ایسا صدر جو ’عظمت‘ کا وعدہ لے کر آیا تھا، اسی کی پالیسیوں کے باعث ملک ایک نئے بحران سے دوچار دکھائی دینے لگا۔ عالمی سطح پر بھی امریکا کی وہ قیادت، جو کبھی اتحاد اور اعتماد کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب سوالیہ نشان بن گئی۔

ٹرمپ کا ’امریکا کو عظیم بنانے‘ کا تصور ایک طاقتور سیاسی نعرہ تو ثابت ہوا، مگر اس کی عملی تعبیر میں تضادات نمایاں رہے۔ طاقت کے بے دریغ استعمال، دھمکی آمیز سفارت کاری اور غیر روایتی فیصلوں نے وقتی طور پر توجہ حاصل کی، لیکن طویل مدت میں اس کے نتائج پیچیدہ اور بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوئے، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔

معروف بین الاقومی انگریزی جریدے’ دی اکانومسٹ‘ نے اپنے تازہ شمارے میں 2 تجزیے شائع کیے ہیں۔ ان میں سے ایک ٹائٹل اسٹوری ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ  خلیج میں شروع کی جانے والی حالیہ جنگی مہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مضبوط کرنے کے بجائے سیاسی طور پر کمزور کر دیا ہے، اس کے سبب  وہ مزید جذباتی اورغصے میں فیصلے کرنے والے بنتے جا رہے ہیں۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کے نتائج الٹ نکل رہے ہیں۔ امریکا کو  سیاسی طور پر نقصان ہوا، عالمی سطح پر حمایت کم ہوئی ہے، اور اتحادی ممالک محتاط رویہ اختیار کرکے امریکا سے دور ہو رہے ہیں۔

مضمون میں ٹرمپ کی قیادت پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ فیصلے جلد بازی اور غصے میں کرتے ہیں، ان کے ہاں واضح حکمت عملی (strategy) کی کمی ہے، ان کے ذہن میں جنگ کے مقاصد بدلتے رہتے ہیں۔ اس سے ان کی سب سے بڑی سیاسی طاقت، یعنی فیصلہ کن قیادت کی شبیہہ کمزور پڑ رہی ہے۔

خلیج کے اندر حالیہ جنگجوئی کا ٹرمپ کو داخلی محاذ پر بھی سیاسی نقصان ہوا ہے۔ امریکا کے اندر مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ قوم میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ سب عوامل ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرہ بن رہے ہیں، اس کا آنے والے انتخابات پر برا اثر پڑے گا۔

مضمون کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ٹرمپ صاحب سمجھتے ہیں کہ سخت فوجی طاقت (brute force) سے امریکا کی پوزیشن بہتر ہوگی لیکن حقیقت میں یہ طریقہ امریکا کو کمزور اور تنہا کر رہا ہے۔

جیسے جیسے مشکلات بڑھ رہی ہیں ٹرمپ کا رویہ زیادہ سخت اور جذباتی ہو رہا ہے۔ وہ تنقید برداشت کرنے کے بجائے مزید جارحانہ فیصلے کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

مضمون کے مطابق خلیج میں حالیہ جنگی مہم ٹرمپ کے لیے سیاسی جیت نہیں بلکہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ وہ جتنا زیادہ طاقت استعمال کررہے ہیں، اتنا ہی ان کی ساکھ خراب ہورہی ہے اور حالات مزید بگڑتے جارہے ہیں۔

اسی شمارے میں شائع شدہ ایک تجزیہ نما کالم کا عنوان ہے: امریکا کی ناکام  ہوتی ہوئی ’گن بوٹ ڈپلومیسی‘۔ اس میں بھی یہی لکھا ہے کہ فوجی طاقت کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنے کی امریکی کوشش جدید دور میں ناکام ہو رہی ہے۔ اور اس کے الٹے نتائج نکل رہے ہیں۔

مضمون کے آغاز میں طنزیہ انداز میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شاید 19ویں صدی کے سامراجی لیڈروں جیسا لباس پہن لینا چاہیےکیونکہ وہ پرانے زمانے کی طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنے والی پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔

امریکا جنگی بحری جہاز، فوجی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے دیگر ممالک (خاص طور پر کمزور یا درمیانے درجے کے ممالک) پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے یہ طریقہ سفارت کاری (diplomacy) کی بجائے طاقت کے استعمال پر مبنی ہے۔

اور یہ حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے کیونکہ دنیا بدل چکی ہے۔ 19ویں صدی میں یہ طریقہ کام کرتا تھا۔ لیکن آج دنیا زیادہ interconnected ہے۔ طاقت صرف فوجی ہی نہیں ہوتی بلکہ معاشی اور سفارتی بھی ہوتی ہے۔

ٹرمپ کی اس حکمت عملی سے اتحادی ناراض ہو رہے ہیں۔ وہ خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں، وہ ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں سے پریشان ہیں۔ اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب امریکا تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا کی مخالف طاقتیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ خاص طور پر چین اور دیگر عالمی طاقتیں۔ یہ ممالک دنیا میں  فوجی دباؤ کے بجائے معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔

جب امریکا دھمکی دیتا ہے یا طاقت استعمال کرتا ہے تو دوسرے ممالک مزاحمت کرتے ہیں، اور متبادل اتحاد ڈھونڈتے ہیں۔ اس موقع پر لاطینی امریکا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکا اپنا ’حلقہ اثر‘ دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے لیکن تجارتی پابندیاں، دھمکیاں، فوجی دباؤ یہ سب مل کر الٹا اثر ڈال رہے ہیں۔ لاطینی امریکا کے کئی ممالک چین کی طرف زیادہ جھک رہے ہیں۔

مضمون میں خبردار کیا گیا کہ اگر یہی پالیسی جاری رہی تو امریکا مزید عالمی اثر کھو سکتا ہے، تنازعات بڑھ سکتے ہیں، غیر ضروری جنگوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ یا ان جیسوں کو اقتدار دینے والے امریکیوں کو سوچنا چاہیے کہ  کیا عظمت صرف طاقت کے اظہار سے حاصل ہوتی ہے، یا اس کے لیے حکمت، توازن اور عالمی اعتماد بھی ضروری ہوتے ہیں؟

ٹرمپ کے تجربے نے کم از کم یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ  قومیں نعروں سے نہیں، فیصلوں سے عظیم بنتی ہیں۔اور تاریخ نعرے نہیں، نتائج یاد رکھتی ہے۔ اچھے نتائج کے لیے دانشمندانہ قیادت اور دور اندیشی ناگزیر ہوتی ہے جو کم از کم ڈونلڈ ٹرمپ جیسوں کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں کہیں نظر نہیں آتی۔

ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ دنیا ایک کارپوریٹ میٹنگ ہے جہاں ہر مسئلہ دھمکی سے حل ہو جاتا ہے۔ امریکی قوم کو ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔ کم از کم دور جدید میں ایسا نہیں ہوسکتا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برنی سینڈرز کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان

امریکی کانگریس میں بڑا سیاسی بحران 2 اراکین جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد مستعفی

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا