وی ایکسکلوسیو، تلسی گبارڈ کا پاکستان سے متعلق بیان بدنیتی پر مبنی اور امریکی عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، اعزاز چوہدری

جمعہ 20 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کا امریکا کے خلاف کسی قسم کی جارحانہ حکمت عملی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس وقت پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کا پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے اور اس میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

وی نیوز کو خصوصی انٹرویو کے دوران تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ یہ بدنیتی پر مبنی مؤقف ہے اور امریکی صدر، کانگریس اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلسی گبارڈ نے جن ممالک کے نام لیے ان میں چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان شامل تھے، لیکن بھارت کا نام شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ بھارت کا اگنی فائیو میزائل جوہری صلاحیت کا حامل اور انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل ہے، جو 5 ہزار سے 8 ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور امریکا تک بھی پہنچنے کی استعداد رکھتا ہے۔

ان کے بقول جب اس حوالے سے تلاش کیا جائے تو یہ دلیل سامنے آتی ہے کہ بھارت امریکا کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے، اس لیے اس سے خطرہ تصور نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری بڑی بددیانتی یہ ہے کہ پاکستان کا نام شامل کیا گیا، حالانکہ پاکستان کے کسی بھی میزائل کی رینج تقریباً 2750 کلومیٹر سے آگے نہیں جاتی، اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر اپنے خطے، بالخصوص بھارت سے لاحق خطرات کے تناظر میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں پاکستان ممکنہ خطرات کی فہرست میں شامل، میزائل صلاحیت پر تشویش کا اظہار

ان کے مطابق پاکستان کا امریکا کے خلاف کسی قسم کی جارحانہ حکمت عملی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس وقت پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تلسی گبارڈ خود کو ایک پریکٹسنگ ہندو قرار دیتی ہیں، جو ان کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن قومی ذمہ داری ادا کرتے وقت ذاتی وابستگیوں کا اثر فیصلوں پر نہیں آنا چاہیے، اور ان کے نزدیک پاکستان کا نام اس فہرست میں شامل کرنا بالکل غلط تھا۔

عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے متعلق سوال پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے اس اجلاس کی پوری تفصیل نہیں دیکھی، تاہم دیر آید درست آید کے مصداق اس نوعیت کے مشاورتی عمل کا ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ جنگ شروع ہوئی تھی تو او آئی سی کا اجلاس فوری طور پر ہونا چاہیے تھا، کیونکہ اگر ایک قوت اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستوں کو باہم لڑانا چاہتی ہے تو مسلم دنیا کو پہچاننا ہوگا کہ اصل دشمن کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر عرب ممالک دوبارہ بیٹھ کر سوچ رہے ہیں تو یہ دانشمندانہ قدم ہے۔

سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ 1945 میں قائم ہونے والا عالمی نظام اب واضح طور پر شکست و ریخت کا شکار ہے، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس ملک، یعنی امریکا نے اس عالمی نظام کو بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، اب وہی اس کے ٹوٹنے پھوٹنے کا بندوبست کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام میں سب سے خطرناک موڑ یکطرفہ کارروائیوں کا رجحان ہے، جس کی بڑی مثال 2003 میں عراق پر امریکی حملہ تھا، جب واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی رائے اور بین الاقوامی قانونی جواز کے بغیر یہ مؤقف اپنایا کہ عراق کے پاس ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن ہیں، حالانکہ بعد میں ایسا کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ ان کے بقول یہی رجحان بعد میں روس نے بھی اپنایا، اور ہمارے اپنے خطے میں بھارت نے بھی پاکستان کے خلاف اسی سوچ کے تحت اقدامات کیے۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ حالیہ عرصے میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں نے بھی یہی ثابت کیا کہ اب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت جس پر چاہیں جب چاہیں حملہ کرنے کو اپنا حق سمجھنے لگی ہیں۔ انہوں نے اس رجحان کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہائپر نیشنلزم بھی پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔

ان کے مطابق جب امریکا فرسٹ، روس فرسٹ، چائنا فرسٹ اور انڈیا فرسٹ جیسے نعرے غالب آ جاتے ہیں تو عالمی تعاون، بین الاقوامی اقدار اور باہمی احترام کے بجائے قومی خود غرضی، نفرت اور تصادم بڑھنے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فضا میں پاپولسٹ قیادتیں سامنے آتی ہیں، جو اپنی مقبولیت کے لیے امیگرینٹس، اقلیتوں، دوسری نسلوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیتی ہیں، اور یہ رجحان اب دنیا کے مختلف حصوں میں سرطان کی طرح پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں پاکستان جیسے ممالک کے پاس اب 2 ہی راستے بچے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ اپنے وسائل پر انحصار کریں اور خود انحصاری کی طرف جائیں، کیونکہ اب بین الاقوامی قوانین اور عالمی ادارے پہلے کی طرح مؤثر نہیں رہے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایسے دوست اور ہم خیال ممالک تلاش کریں جو مشکل وقت میں ان کے کام آ سکیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بھارت نے مئی میں پاکستان پر حملہ کیا تو چین پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹیجک اور دفاعی تعاون میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور ترکیہ بھی پاکستان کا ساتھ دینے کی خواہش رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے ممالک اب اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل جیسے فورمز پر مکمل انحصار کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متبادل راستے اپنا رہے ہیں۔

انہوں نے اس سارے بحران میں انرجی پالیٹکس کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیا۔ ان کے مطابق ایک وقت تھا جب امریکا مشرق وسطیٰ کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا، لیکن اب شیل آئل اور گیس کی وجہ سے امریکا خود نیٹ ایکسپورٹر بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یورپ اپنے تیل کی ایک بڑی مقدار امریکا سے حاصل کر رہا ہے، جبکہ حالیہ بحران کے بعد پاکستان اور بھارت جیسے ممالک بھی امریکا سے تیل خریدنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق اس صورتحال کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر اور سپلائی پر دباؤ بڑھے تو امریکی تیل کی مانگ بڑھے اور یورپ بھی دوبارہ امریکا پر زیادہ انحصار کرنے لگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے پیچھے چین کو متاثر کرنے کی سوچ بھی کارفرما ہو سکتی ہے، کیونکہ چین اپنی بڑی توانائی ضروریات اسی خطے سے پوری کرتا ہے اور ایران کا بھی بڑا خریدار ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر توانائی کے ذخائر اور تنصیبات براہ راست جنگ کا ہدف بننے لگیں تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو شدید معاشی بحران اور ممکنہ کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایران کے گیس فیلڈ ساؤتھ ڈوم پر حملہ ہوا تو اس کے بعد خطرہ پیدا ہو گیا کہ جوابی ردعمل میں خطے کے دوسرے بڑے توانائی مراکز بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان کے بقول اگر تیل اور گیس کی پیداوار اور سپلائی کو نشانہ بنایا گیا تو دنیا کی معیشت ہل کر رہ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے امریکی بیان مسترد کر دیا، پاکستان کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا حامل قرار

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران کی حکمت عملی میں سعودی عرب پر حملہ شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک اہم مصالحتی عمل شروع ہوا تھا، اس لیے ایران کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ سعودی عرب کو اپنے خلاف ایک محاذ نہ بننے دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران بہت سے محاذ کھول دے گا تو اس کے لیے صورت حال مزید مشکل ہو جائے گی

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت یہی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو سمجھایا جائے کہ سعودی عرب کو نشانہ نہ بنایا جائے، اور مسلم دنیا کے مفاد میں یہی ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ نہ ہو، کیونکہ اس سے امت مسلمہ کو شدید نقصان پہنچے گا۔

افغانستان کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش یہ ہونی چاہیے کہ آخرکار پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر آئیں، کیونکہ دونوں ممالک صدیوں سے تہذیب، ثقافت، زبان، کھانے پینے اور سماجی روابط کے ذریعے ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کے بقول گزشتہ ساڑھے 4 برس میں افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے ٹی ٹی پی کو شہ دے کر پاکستان میں اتنا خون بہایا کہ پاکستانی عوام تنگ آ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے پاکستان کو مجبوراً افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور وہاں موجود اسلحے کو نشانہ بنانا پڑا، خصوصاً وہ اسلحہ جو امریکا چھوڑ کر گیا تھا اور جسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

اعزاز چوہدری نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے یہ راستہ ابتدا ہی سے نہیں اپنایا بلکہ ساڑھے 4 سال تک ہر سطح پر بات چیت کی کوشش کی۔ ان کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ 2 مرتبہ کابل گئے، دیگر سطحوں پر بھی رابطے ہوئے، لیکن افغان طالبان کی جانب سے وہ سنجیدگی نہ دکھائی گئی جو دکھائی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی پاکستان آنے کے بجائے بھارت جانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، اور وہاں بھی انہوں نے ایسے بیانات دیے جو پاکستان مخالف تھے۔ اعزاز چوہدری نے افغان طالبان کے اس مؤقف کو بھی تاریخی طور پر غلط قرار دیا کہ انہوں نے برطانیہ، روس اور امریکا کو نکال باہر کیا۔ ان کے مطابق دوسری اینگلو افغان جنگ میں افغان قیادت کو شکست ہوئی تھی، ڈیورنڈ لائن کی تشکیل باقاعدہ درخواست کے بعد ہوئی اور بعد کی افغان قیادتوں نے بھی اسے تسلیم کیا تھا۔

افغان طالبان حکومت کے مستقبل سے متعلق سوال پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت ان کے نزدیک ایک غیر تسلیم شدہ اور غیر نمائندہ سیٹ اپ ہے، کیونکہ روس کے سوا دنیا کے کسی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت دراصل ایک ریاستی ڈھانچے کے بجائے اب بھی ایک ملیشیا جیسا طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے، اور خواتین کی تعلیم، ملازمت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے اس کا رویہ بھی ناقابل قبول ہے۔

ان کے مطابق یہ سیٹ اپ پورے افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتا کیونکہ ازبک، تاجک اور ہزارہ برادریوں سمیت بڑی آبادی کو اس میں مناسب حصہ نہیں دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم