امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں پاکستان ممکنہ خطرات کی فہرست میں شامل، میزائل صلاحیت پر تشویش کا اظہار

جمعرات 19 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ (Tulsi Gabbard) نے پاکستان کو ان ممالک میں شامل کیا ہے جو مستقبل میں امریکا کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے ہیں، اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت امریکی سرزمین تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے 2026 کی سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جدید اور روایتی میزائل نظام تیار کر رہے ہیں جو جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عدالتی حکم سے وائس آف امریکا بحال، سینکڑوں صحافی دوبارہ کام پر آ جائیں گے

گبارڈ کے مطابق پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں پر کام کر رہا ہے، جن میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں امریکا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دہائی میں میزائل خطرات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور 2035 تک امریکا کو درپیش میزائلوں کی مجموعی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

واشنگٹن میں مقیم تجزیہ کار شکاع نواز نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جوہری خطرات کی فہرست میں شامل کرنا دراصل سابق امریکی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ پاکستان کے شاہین 3 میزائل کی رینج قریباً 2800 کلومیٹر تک سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کا جوہری پروگرام صرف بھارت کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے لیے ہے۔

دوسری جانب ماہر امور خارجہ مائیکل کوگلمین (Michael Kugelman) نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کا نام دیگر ممالک کے ساتھ لیا گیا ہے، تاہم اسے الگ سے ہدف نہیں بنایا گیا، اس لیے اس بیان کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

جنوبی ایشیا میں خطرات برقرار

گبارڈ نے خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا میں سرگرم شدت پسند گروہ اب بھی امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ ہیں اور وہ سیاسی عدم استحکام اور کمزور حکومتی رٹ والے علاقوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے، اگرچہ حالیہ بحران میں امریکی صدر کی مداخلت سے کشیدگی میں کمی آئی۔

ایران اب بھی خطرہ قرار

رپورٹ میں ایران کے حوالے سے کہا گیا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایرانی حکومت کمزور ضرور ہوئی ہے، لیکن اب بھی برقرار ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکی سینیٹر مائیکل بینیٹ نے ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی پر خدشات کا اظہار کیا، جبکہ سی آئی اے ڈائریکٹر نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے مستقل خطرہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے 50 ممالک کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کردیے

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے سے قبل ممکنہ جوابی کارروائی، خصوصاً خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے کے کئی ممالک بشمول مصر، اسرائیل، پاکستان، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات اپنے مفادات کے حصول کے لیے پراکسی فورسز اور عسکری وسائل استعمال کر رہے ہیں، جس سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم