کہتے ہیں کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں لیکن آج یعنی 20 مارچ کو ایسا منفرد موقع ہے کہ دن اور رات دونوں ہی برابر ہیں۔
50 ہزار سال پرانا میٹیور کریٹر اب بھی نئے راز افشا کرنے لگایہ بھی پڑھیں:
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج یعنی دن اور رات کا دورانیہ تقریباً یکساں ہو جائے گا۔
پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 46 منٹ پر اعتدالِ ربیعی کا آغاز ہوگا جو موسم بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اعتدالِ ربیعی کیا ہے؟
یہ ایک فلکیاتی موقع ہوتا ہے جب سورج اپنے ظاہری سفر کے دوران خطِ استوا کے عین اوپر آ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے بیشتر علاقوں میں دن اور رات تقریباً برابر، یعنی 12، 12 گھنٹے کے ہو جاتے ہیں۔
خط استوا کی وضاحت
خط استوا زمین کے وسط میں کھینچی گئی ایک فرضی لکیر ہے جو اسے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: انٹارکٹیکا میں 30 سال میں لاس اینجلس کے رقبے سے 10 گنا زیادہ برف پگھل گئی، تحقیق
اعتدال ربیعی کے دوران سورج اس لکیر کے اوپر ہوتا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں سورج کی روشنی تقریباً یکساں طور پر پہنچتی ہے۔
سورج کا طلوع و غروب
اس دن سورج تقریباً عین مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے، جسے ماہرین فلکیات ایک نمایاں قدرتی مظہر قرار دیتے ہیں۔
اعتدالِ خریفی کی جھلک
اسی طرح کا ایک اور مرحلہ ستمبر میں آتا ہے جسے اعتدالِ خریفی کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: اٹلی: پریمی جوڑوں کے لیے اہم ترین محراب ’لو آرچ‘ نے ویلنٹائن ڈے پر خود کو سمندر کے سپرد کردیا
اس وقت سورج شمال سے جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے دوبارہ خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے اور دن رات ایک بار پھر تقریباً برابر ہو جاتے ہیں۔
سال میں 2 بار ہونے والا مظہر
اعتدالِ ربیعی اور اعتدالِ خریفی دونوں سال میں 2 مرتبہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان مواقع پر سورج کی شعاعیں براہ راست خطِ استوا پر پڑتی ہیں جس کے باعث دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ تقریباً ایک جیسا رہتا ہے، اگرچہ کچھ علاقوں میں معمولی فرق ممکن ہے۔
تاریخوں میں معمولی رد و بدل
اعتدالِ ربیعی عموماً ہر سال 19 سے 21 مارچ کے درمیان آتا ہے جبکہ اعتدال خریفی 21 سے 24 ستمبر کے دوران ہوتا ہے۔ یہ ایک مختصر دورانیے کا مرحلہ ہوتا ہے جس کے بعد دن یا رات کے اوقات میں بتدریج اضافہ یا کمی یعنی دن بڑا یا چھوٹا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔













