ایک وفاقی جج نے پینٹاگان (امریکی محکمہ دفاع) کی جانب سے نافذ کی گئی پریس تک رسائی پر نئی پابندیوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون کی آزادی صحافت پر نئی قدغن، نیویارک ٹائمز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
اس فیصلے کا تعلق ایک عدالت میں نیو یارک ٹائمز کے دائر کردہ مقدمے سے ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نئی پالیسیاں صحافیوں کے بنیادی حقوق، خاص طور پر آزادی صحافت اور اظہار رائے کے آئینی تحفظات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ اگرچہ قومی سلامتی کا تحفظ ضروری ہے لیکن عوام کو حکومت کی سرگرمیوں کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر سے معلومات تک رسائی حاصل ہونا بھی اسی قدر اہم ہے خاص طور پر اس وقت جب امریکا مختلف خارجہ فوجی مداخلتوں کا سامنا کر رہا ہے۔
پریس کی رسائی کی پالیسی کا پسِ منظر
گزشتہ اکتوبر میں پینٹاگان نے ایک نئی پالیسی نافذ کی تھی جس کے تحت صحافیوں سے کہا گیا کہ وہ صرف وہی معلومات شائع کریں جو دفاعی ادارے کی اجازت سے ہو ورنہ ان کی پینٹاگان تک رسائی ختم کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا نیویارک ٹائمز پر 15 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ
اس کے خلاف کئی بڑے امریکی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے احتجاجاً اپنے پریس پاس واپس کر دیے تھے کیونکہ انہیں لگا کہ یہ پابندیاں آزادانہ رپورٹنگ کو محدود کرتی ہیں۔
عدالت نے اس نئی پالیسی کو امریکی کی پہلی اور 5ویں ترمیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے نافذ کرنا صحافیوں کے بنیادی حقوق اور عوام کی معلومات تک رسائی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم، نیو یارک ٹائمز نے پردہ فاش کردیا
اس فیصلے کو آزاد صحافت کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ پینٹاگان نے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔













