علامہ ناظر عباس تقوی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف پراپیگنڈا بے نقاب کردیا

اتوار 22 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف مذہبی رہنما علامہ ناظر عباس تقوی نے جنرل عاصم منیر (فیلڈ مارشل) سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ملاقات پاکستان کی پالیسی اور موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں کی گئی تھی، نہ کہ کسی غیر ملکی شخصیت سے۔

اس ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں افواجِ پاکستان یا ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔

’ملاقات نیتن یاہو سے نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل سے ہوئی‘

علامہ ناظر عباس تقوی نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں سے کہا کہ ہماری ملاقات نہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوئی ہے اور نہ نیتن یاہو سے، بلکہ ہماری ملاقات پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ہوئی ہے۔ وہ ہمارے ملک کے سپہ سالار ہیں، ان سے ملاقات کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم پاکستان کی پالیسی کو سمجھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کی جنگ میں ہر آدمی پریشان ہے، چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی۔ہر کسی کا یہی سوال ہے کہ اس میں پاکستان کا موقف کیا ہے اور پاکستان کی پالیسی کیا ہے۔

’ظاہر ہے کہ پاکستان کی پالیسی حکومت اور ریاست ہی دیتی ہے، اور اس حوالے سے علماء کرام کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، نہ کہ ہر شخص سے بات کی جاتی ہے۔ اسی لیے علماء کرام کو بلایا گیا اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔‘

علامہ تقوی نے کہا ’تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی اس ملاقات میں کئی اہم نکات زیرِ بحث آئے۔ سب سے پہلے جنرل عاصم منیر نے رہبرِ انقلاب آیت العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اسے عالم اسلام کا بڑا نقصان قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی آیت اللہ خامنہ ای سے تین بار ملاقات ہو چکی ہے اور ان کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے۔‘

احتجاج آئینی حق مگر تشدد ناقابل قبول

انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم اس کی آڑ میں افواجِ پاکستان یا ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات میں شرپسند عناصر ملوث ہوتے ہیں اور انہیں کسی مخصوص مکتبِ فکر سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

فرقہ واریت سے بچاؤ پر زور

ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ علماء کرام اپنے پیروکاروں کو پرامن احتجاج کی تلقین کریں تاکہ ملک میں فرقہ واریت یا انتشار کی فضا پیدا نہ ہو۔
حکام نے علماء سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے امن و استحکام کے قیام میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

پاکستان جنگ کا حصہ نہیں بنے گا

علامہ تقوی کے مطابق فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان موجودہ علاقائی کشیدگی میں براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ایران اور عرب ممالک کے درمیان توازن کی پالیسی

ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے تحت تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت مضبوطی سے کھڑا ہے اور پاکستان بھی چاہتا ہے کہ ایران مضبوط رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کسی کو اسے کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان توازن اور اعتماد برقرار رکھا جائے اور خطے میں کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔

دہشتگردی اور سیکیورٹی چیلنجز پر گفتگو

ملاقات میں دہشتگردی، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

علم، ٹیکنالوجی اور اتحاد کی ضرورت

فیلڈ مارشل نے علماء پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف راغب کریں تاکہ پاکستان عالمی سطح پر مضبوط ہو سکے۔
مزید برآں، اتحاد، برداشت اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

سوشل میڈیا پروپیگنڈا مسترد

علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا منفی پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، اور عوام کو چاہیے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔

انہوں نے تمام مکاتبِ فکر سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، بھائی چارے اور امن کو فروغ دیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp