وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کی رضامندی سے مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ اعزاز حاصل کرنے پر فخر ہوگا۔
وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے جاری مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے یہ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کے امریکا ایران مذاکرات کی خبروں پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب دفترِ خارجہ نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور سرکاری اعلانات کا انتظار کریں۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا، پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی اور مذاکراتی کوششوں کے لیے تیار رہا ہے۔
Pakistan welcomes and fully supports ongoing efforts to pursue dialogue to end the WAR in Middle East, in the interest of peace and stability in region and beyond. Subject to concurrence by the US and Iran, Pakistan stands ready and honoured to be the host to facilitate…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 24, 2026
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد ممکنہ طور پر امریکا اور ایران کے نمائندگان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا مقام بن سکتا ہے۔
یہ مذاکرات اس وقت زیر غور ہیں جب مشرق وسطی میں جاری جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کے ساتھ ہوا تھا۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل بھی شامل تھا۔
پاکستان نے پیر کو ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر دباؤ کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا نے ایرانی توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملے 5 دن کے لیے ملتوی کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ ’بہت اچھے اور نتیجہ خیز مذاکرات‘ کیے ہیں جو دشمنی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ وقفہ محدود اور مخصوص علاقوں تک ہی ہے، جبکہ لڑائی مختلف محاذوں پر جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے امریکی خصوصی نمائندہ اور ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ غیر مستقیم رابطے کیے، جس میں بات چیت کا محور کشیدگی کم کرنا، آبنائے ہرمز کھولنا اور جنگ کے وسیع خاتمے کے اصول طے کرنا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ دنوں پیغامات کئی ’دوست ممالک‘کے ذریعے پہنچائے گئے اور ایرانی ردعمل اپنے اصولی موقف پر مرکوز رہا۔ ایران نے امریکی اعلان کو مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کسی بھی براہِ راست یا غیر مستقیم مذاکرات کی تردید کی۔














