عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں امریکی ڈالر کی مضبوطی، عالمی مالیاتی پالیسیوں میں سختی اور سرمایہ کاروں کا متبادل شعبوں کی جانب رجحان شامل ہیں۔ مگر اس کے بعد گولڈ کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
23 مارچ 2026 کو پاکستان میں فی تولہ گولڈ کی قیمت میں 43 ہزار 600 روپے کی کمی ہوئی۔ جسے ماہرین کی جانب سے تاریخ میں ایک بڑی کمی قرار دیا گیا۔ مگر 24 مارچ کو گولڈ کی قیمت میں 16 ہزار 300 روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ 25 مارچ کو گولڈ کی قیمت مزید 15 ہزار 200 کے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 79 ہزار تک پہنچ گئی۔
مزید پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں حیران کن کمی، فی تولہ سونا ہزاروں روپے سستا
ماہرین کے مطابق جب عالمی معیشت میں استحکام یا شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کار سونے کے بجائے دیگر منافع بخش شعبوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے سونے کی طلب اور قیمت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت فی اونس کم ہو کر نچلی سطح پر آ گئی تھی۔ جس کے اثرات دنیا بھر کی مقامی مارکیٹوں سمیت پاکستان میں بھی دیکھے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کمی عارضی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کسی بھی وقت قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہے۔ اور اس کا رجحان گزشتہ روز سے دیکھنے میں بھی آ رہا ہے۔
اسی عالمی رجحان کے زیرِ اثر پاکستان میں بھی سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جس سے کبھی خریداروں کو کسی حد تک ریلیف مل رہا ہے۔ تو کبھی مشکلات کا سامنا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی واقع ہوئی تھی۔ جبکہ 10 گرام سونے کے نرخ بھی نمایاں طور پر کم ہوئے۔ مگر گولڈ کی قیمت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی پیشگوئی کرنا نہایت مشکل ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کراچی صرافہ مارکیٹ کے ممبر عبداللہ چاند نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سونے (گولڈ) کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کی وجہ سے گولڈ کی ایکسپورٹ اور خرید و فروخت قریباً معطل ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر خاص طور پر دبئی کی بات کی جائے تو وہاں کی گولڈ مارکیٹ کافی متاثر ہوئی ہے۔ رمضان کے سیزن سے پہلے دبئی نے مختلف ممالک سے بڑی مقدار میں گولڈ امپورٹ کیا تھا، کیونکہ دبئی عالمی سطح پر گولڈ ٹریڈ کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے بعد میں ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات کے باعث ایکسپورٹ متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے دبئی میں گولڈ ڈسکاؤنٹ ریٹس پر دستیاب ہے۔
دوسری طرف، اس وقت سرمایہ کاروں کی زیادہ توجہ آئل مارکیٹ پر ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا اثر سونے کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
عبداللہ چاند کے مطابق آنے والے وقت میں گولڈ کی قیمتوں میں مزید کمی ہوگی یا اضافہ، اس بارے میں فی الحال کچھ حتمی کہنا مشکل ہے۔ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے دوران درست پیشگوئی کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔
راولپنڈی صرافہ مارکیٹ کے ممبر محمد مجتبیٰ کے مطابق گولڈ کی قیمت میں بہت بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ 5 لاکھ 80 ہزار سے ریٹ گر کر قریباً 4 لاکھ 40 ہزار تک ریٹ آیا۔ اور اس وقت گولڈ کی قیمت قریباً 4 لاکھ 47 ہزار پر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مہینے میں گولڈ کی قیمت میں کمی کے امکانات تو کافی ہیں مگر مستقبل میں اضافے کا ہی رجحان نظر آرہا ہے اور اب گولڈ کی قیمت بڑھنا شروع ہوئی تو پھر یہ دوبارہ اسی رجحان سے بڑھے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا دارومدار نہ صرف عالمی مارکیٹ بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر بھی ہوتا ہے۔ حالیہ کمی میں عالمی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کرنسی کے استحکام نے بھی کردار ادا کیا۔
اس حوالے سے معاشی ماہر راجا کامران کا کہنا ہے کہ جب مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرتے ہیں تو سرمایہ کار سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کے بجائے بانڈز اور دیگر مالیاتی ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہاں انہیں بہتر منافع ملتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر سونے کی طلب میں کمی آتی ہے اور قیمتیں نیچے آتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، فی تولہ قیمت نے ریکارڈ توڑ دیا
ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ عالمی معاشی حالات میں سرمایہ کاروں کا اعتماد دیگر مارکیٹس کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث سونے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، تاہم اگر عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال یا جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو سونا دوبارہ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
جیولرز کے مطابق اگر قیمتوں میں کمی ہوئی تو مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بڑھنے کا امکان ہے، خاص طور پر شادیوں کے سیزن کے پیش نظر۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اس لیے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ کچھ ٹائم تک جاری رہ سکتا ہے۔
یاد دہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی دباؤ یا سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو سونے کی قیمت دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔














