بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے دونوں رہنماؤں نے چین اور امریکا تعلقات کو دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات قرار دیتے ہوئے تعاون، باہمی احترام اور اسٹریٹجک استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے تعاون کے راستے پر چل کر نہ صرف اپنی اقوام بلکہ عالمی امن و ترقی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام
بیجنگ میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج کا دن بہت اہم اور مثبت ہے، اور چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر سمت میں لے جانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت اور تعمیری رہی ہے۔
Trump and Xi Jingping being greeted by young Chinese students at the Great Hall of the People in Beijing.
Follow: @AFpost pic.twitter.com/xz2y8JyFA5
— AF Post (@AFpost) May 14, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ عالمی استحکام کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے بیجنگ میں موجودگی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس موقع ہے کہ وہ تعاون اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ 24 ستمبر کو چینی صدر کو امریکا آنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق مستقبل اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کریں۔
یہ بھی پڑھیں:بیجنگ میں بڑی سفارتی بیٹھک، شی جن پنگ ٹرمپ، پیوٹن اور شہباز شریف سے ملاقات کریں گے
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے تفصیلی اور گہرے تبادلہ خیال نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف دو طرفہ نوعیت کے ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہونے کے ناتے چین اور امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دونوں ممالک تعاون سے فائدہ اور تصادم سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ شی جن پنگ کے مطابق اسٹریٹجک استحکام کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان تعلقات کی مسلسل، مستحکم اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

چینی صدر نے صدر ٹرمپ اور دیگر معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور ون ون تعاون وہ بنیادی اصول ہیں جن پر عمل کر کے تعلقات کو مثبت اور مستحکم سمت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کی مجموعی آبادی 1.7 ارب سے زائد افراد پر مشتمل ہے، اس لیے دونوں فریقوں پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو درست سمت میں آگے بڑھائیں اور اسے ذمہ داری کے ساتھ سنبھالیں۔
Trump heralds 'fantastic future' for US-China relations at superpower summit in Beijing.
Trump told Xi it is "an honour to be your friend", as the Chinese leader, in less effusive tones, said the two sides "should be partners and not rivals". The talks are expected to cover a… pic.twitter.com/gFAINrkTsG
— AFP News Agency (@AFP) May 14, 2026
شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو اس ’دیوقامت تعلقاتی جہاز‘ کو ذمہ داری اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا تاکہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں بلکہ عالمی استحکام کو بھی فروغ ملے۔
انہوں نے آخر میں دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی، عوام کی فلاح و بہبود اور چین و امریکا کے روشن مستقبل کے لیے ایک مختصر ٹوسٹ بھی پیش کیا اور دونوں اقوام کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔
ادھر اس سے قبل امریکی و چینی قیادت کے درمیان ملاقات میں آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا تاکہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی توانائی سلامتی اور تجارت کے استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔













