امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے دونوں رہنماؤں نے چین اور امریکا تعلقات کو دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات قرار دیتے ہوئے تعاون، باہمی احترام اور اسٹریٹجک استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے تعاون کے راستے پر چل کر نہ صرف اپنی اقوام بلکہ عالمی امن و ترقی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام

بیجنگ میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج کا دن بہت اہم اور مثبت ہے، اور چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر سمت میں لے جانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت اور تعمیری رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ عالمی استحکام کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے بیجنگ میں موجودگی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس موقع ہے کہ وہ تعاون اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ 24 ستمبر کو چینی صدر کو امریکا آنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق مستقبل اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کریں۔

یہ بھی پڑھیں:بیجنگ میں بڑی سفارتی بیٹھک، شی جن پنگ ٹرمپ، پیوٹن اور شہباز شریف سے ملاقات کریں گے

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے تفصیلی اور گہرے تبادلہ خیال نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف دو طرفہ نوعیت کے ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہونے کے ناتے چین اور امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دونوں ممالک تعاون سے فائدہ اور تصادم سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ شی جن پنگ کے مطابق اسٹریٹجک استحکام کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان تعلقات کی مسلسل، مستحکم اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

چینی صدر نے صدر ٹرمپ اور دیگر معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور ون ون تعاون وہ بنیادی اصول ہیں جن پر عمل کر کے تعلقات کو مثبت اور مستحکم سمت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کی مجموعی آبادی 1.7 ارب سے زائد افراد پر مشتمل ہے، اس لیے دونوں فریقوں پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو درست سمت میں آگے بڑھائیں اور اسے ذمہ داری کے ساتھ سنبھالیں۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو اس ’دیوقامت تعلقاتی جہاز‘ کو ذمہ داری اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا تاکہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں بلکہ عالمی استحکام کو بھی فروغ ملے۔

انہوں نے آخر میں دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی، عوام کی فلاح و بہبود اور چین و امریکا کے روشن مستقبل کے لیے ایک مختصر ٹوسٹ بھی پیش کیا اور دونوں اقوام کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔

ادھر اس سے قبل امریکی و چینی قیادت کے درمیان ملاقات میں آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا تاکہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی توانائی سلامتی اور تجارت کے استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے