ایک سال میں 33 بل منظور، سینیٹ کی کارکردگی رپورٹ میں اہم انکشافات

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ آف پاکستان نے پارلیمانی سال 2025-26 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، جس میں قانون سازی، نگرانی اور عالمی روابط کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

سینیٹ آف پاکستان نے پارلیمانی سال 2025-26 کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں 12 مارچ 2025 سے 11 مارچ 2026 تک ایوان بالا کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سینیٹ کے آئینی مینڈیٹ کے تمام پہلوؤں، بشمول قانون سازی، انتظامی نگرانی، ادارہ جاتی استحکام اور پارلیمانی سفارتکاری میں نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

یہ پارلیمانی سال دیگر کامیابیوں کے ساتھ اسلام آباد میں پہلی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کے کامیاب انعقاد کے باعث بھی منفرد رہا، جس کے ذریعے پاکستان عالمی پارلیمانی مکالمے کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا۔

 اجلاس اور پارلیمانی سرگرمیاں

پارلیمانی سال کے دوران سینیٹ کے 12 اجلاس (348واں تا 359واں) منعقد ہوئے جبکہ پارلیمنٹ کے تین مشترکہ اجلاس بھی ہوئے۔ مجموعی طور پر 112 دنوں میں 64 نشستیں ہوئیں۔ ان نشستوں کا دورانیہ 158 گھنٹے 53 منٹ رہا۔ مشترکہ اجلاسوں سمیت کل دورانیہ 161 گھنٹے 43 منٹ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے کفایت شعاری اقدامات: سینیٹ سیکریٹریٹ میں 700 سے 750 ملین روپے کی بچت ممکن

اراکین کی حاضری بھی تسلی بخش رہی۔ 355ویں اجلاس میں سب سے زیادہ 88 سینیٹرز شریک ہوئے، جبکہ فی نشست اوسط حاضری 55 سینیٹرز رہی۔

پرائیویٹ ممبر ڈے کے 11 دن منعقد کیے گئے، جس سے نجی قانون سازی کے لیے مؤثر مواقع فراہم ہوئے۔

 قانون سازی میں پیش رفت

سینیٹ نے قانون سازی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ حکومت کی جانب سے 17 بل پیش کیے گئے، جن میں سے 14 منظور ہوئے۔ قومی اسمبلی سے موصول ہونے والے 31 بلوں پر غور کیا گیا۔ مجموعی طور پر 33 بل منظور کیے گئے۔

نجی اراکین نے بھی فعال کردار ادا کرتے ہوئے 40 بل پیش کیے، جو قانون سازی کے عمل کی شمولیتی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خصوصاً آئینی (ستائیسویں ترمیم) بل 2025 ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا۔

 نگرانی اور عوامی مسائل

سینیٹ نے سوال و جواب کے نظام کے ذریعے اپنی نگرانی کی ذمہ داری مؤثر انداز میں نبھائی۔ 1,157 سوالات موصول ہوئے، جن میں سے 479 کے جوابات دیے گئے 85 قراردادیں پیش کی گئیں، جن میں سے 19 منظور جبکہ 15 متفقہ طور پر منظور ہوئیں۔

119 تحریکیں موصول ہوئیں، جن میں معاشی کارکردگی، قدرتی آفات اور علاقائی ترقی جیسے اہم مسائل شامل تھے۔

 قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی

سینیٹ کی 38 قائمہ اور فنکشنل کمیٹیوں نے 346 اجلاس منعقد کیے، جن کا مجموعی دورانیہ 780 گھنٹوں سے زائد رہا، اور 106 رپورٹس ایوان میں پیش کیں۔

یہ بھی پڑھیے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے درجنوں اراکین سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل

ان کمیٹیوں نے قانون سازی کے جائزے، بجٹ کی چھان بین اور حکومتی کارکردگی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً خزانہ، اقتصادی امور اور داخلہ کی کمیٹیوں کی کارکردگی نمایاں رہی۔

 پارلیمانی سفارتکاری

پارلیمانی سال 2025-26 عالمی روابط کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم رہا۔

37 پارلیمانی وفود کی میزبانی و شرکت ہوئی جبکہ  43 اہم سفارتی ملاقاتیں ہوئیں۔

عالمی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی، امن اور پائیدار ترقی جیسے مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا گیا۔

 تاریخی کانفرنس (ISC)

10 تا 12 نومبر 2025 اسلام آباد میں پہلی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) منعقد ہوئی، جس میں 33 ممالک کے 153 مندوبین نے شرکت کی “امن، سلامتی اور ترقی” کے موضوع پر غور کیا گیا۔

کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا گیا، جس میں مکالمے، جمہوری طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

 ادارہ جاتی بہتری

سینیٹ سیکرٹریٹ نے تحقیق، قانون سازی میں معاونت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے اپنی کارکردگی بہتر بنائی۔ تربیتی پروگرامز نے اراکین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دیا، جبکہ میڈیا رسائی میں بہتری سے شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا۔

سالانہ رپورٹ 2025-26 سینیٹ آف پاکستان کی مؤثر قانون سازی، فعال نگرانی اور مضبوط پارلیمانی سفارتکاری کی عکاسی کرتی ہے۔ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا کامیاب انعقاد ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا، جبکہ سینیٹ نے آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ قومی خدمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp