برطانوی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی سارہ فرگوسن کو ایک بڑے اعزاز سے محروم کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ امریکی مالیاتی مجرم سارہ فرگوسن سے ان کے مبینہ روابط پر دوبارہ اٹھنے والی بحث ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ عوامی حلقوں میں نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
سارہ فرگوسن سے فریڈم آف دی سٹی آف یارک کا اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سٹی کونسل کے اجلاس میں متفقہ طور پر کیا گیا۔
یہ اعزاز 1987 میں ان کی شادی شہزادہ اینڈریو سے ہونے کے بعد دیا گیا تھا اور یہ شہر کا ایک اہم اور تاریخی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
تاریخی اعزاز کی اہمیت
فریڈم آف دی سٹی آف یارک ایک علامتی اور تاریخی اعزاز ہے جس کی تاریخ 13ویں صدی تک جاتی ہے۔ یہ شہر کی جانب سے دیا جانے والا ایک اعلیٰ ترین اعزاز ہے، جسے شاذ و نادر ہی واپس لیا جاتا ہے۔
ایپسٹین سے روابط پر نئی بحث
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نام نہاد ’ایپسٹین فائلز‘ دوبارہ منظر عام پر آئیں، جنہوں نے سارہ فرگوسن کے ماضی کے تعلقات پر سوالات اٹھائے۔ رپورٹس کے مطابق 2009 کا ایک پیغام سامنے آیا مالی معاونت سے متعلق دعوے بھی کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے برطانوی شہزادے اینڈریو کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن طویل عرصے بعد منظر عام پر
ان انکشافات نے عوامی سطح پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
کونسل کا مؤقف
کونسل اراکین کا کہنا تھا کہ اس اعزاز کے حامل افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شہر کی ساکھ کے مطابق اقدار کو برقرار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ جیفری ایپسٹین کے خلاف سزا کے بعد بھی ان سے تعلقات اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
پہلے بھی مثال موجود
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یارک شہر نے ایسا قدم اٹھایا ہو۔
2022 میں شہزادہ اینڈریو اس اعزاز سے محروم ہونے والے پہلے فرد بنے تھے، جس نے اس طرح کے فیصلوں کی راہ ہموار کی۔
سارہ فرگوسن کا ردعمل سامنے نہ آیا
اب تک سارہ فرگوسن کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیے پرنس ولیم نے شہزادے اینڈریو کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن کو سخت وارننگ دیدی
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی شخصیات کے لیے احتساب کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، خصوصاً جب معاملہ حساس تنازعات سے جڑا ہو۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے سارہ فرگوسن کی عوامی ساکھ پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔














