پشین میں رشتہ نہ دینے پر فائرنگ، 3 افراد قتل، احتجاج کے بعد شاہراہ 12 گھنٹے بند

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع پشین میں رشتہ دینے سے انکار پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ایک شخص نے لڑکی کے والد سمیت ایک ہی خاندان کے تین افراد کو قتل جبکہ ایک خاتون کو زخمی کر دیا۔ واقعے کے بعد مشتعل لواحقین اور مقامی افراد نے لاشیں رکھ کر احتجاج کیا اور کوئٹہ۔چمن این 25 شاہراہ کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ: 8 لاکھ روپے کی جائیداد پر تنازع، یورپ سے آئے 3 بھائی اپنوں کے ہاتھوں قتل

پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی شام کو پشین کے علاقے یارو میں مین بازار کے قریب پیش آیا جہاں پرویز کاکڑ نامی ملزم مبینہ طور پر ایک گھر میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں لڑکی کے والد ماسٹر محمد نسیم یوسفزئی، ان کے چچازاد بھائی شہریار یوسفزئی اور ان کی چچی سدرہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ چچازاد بہن آمنہ زخمی ہو گئیں جنہیں فوری طور پر گورنمنٹ ٹیچنگ اسپتال پشین منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے لڑکی کا رشتہ مانگا تھا تاہم اہل خانہ کی جانب سے انکار کر دیا گیا تھا۔ لڑکی کا رشتہ پہلے ہی کراچی میں مقیم ایک نوجوان سے طے ہو چکا تھا جس پر ملزم مبینہ طور پر مشتعل ہو گیا اور اس نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشین میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، ایک پولیس اہلکار شہید

واقعے کے بعد مقتولین کے لواحقین اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تینوں لاشیں یارو کے مین چوک میں رکھ کر کوئٹہ۔چمن این 25 شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس کے باعث کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کے درمیان ٹریفک معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ قاتل کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔

ادھر بلوچستان کی وزارت داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی پشین سے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی۔ معاون خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشین: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او زخمی

جمعے کی صبح کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ اور ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت یارو پہنچے اور لواحقین اور مقامی عمائدین سے مذاکرات کیے۔ ڈی آئی جی پولیس نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کو تین دن کے اندر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔

حکام کی یقین دہانی کے بعد لواحقین نے احتجاج ختم کرتے ہوئے میتیں اٹھا لیں جس کے بعد تقریباً 12 گھنٹوں سے بند شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp