کیا پی ٹی آئی کا سندھ سے صفایا ہو چکا ہے؟

جمعہ 27 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سندھ میں سیاسی صورتحال ایک طویل اور پیچیدہ سفر رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کے دورِ تنظیم سازی سے لے کر موجودہ منظر سے غائب ہونے تک کے عوامل کو سمجھنے کے لیے ماضی اور حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

شاہ محمود قریشی کا دور اور تنظیم سازی

سینیئر صحافی فیض اللہ خان کے مطابق شاہ محمود قریشی کو جب سندھ کے معاملات سونپے گئے تھے، تو ان کا بنیادی ہدف دیہی سندھ میں پارٹی کو فعال کرنا تھا۔ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں پی ٹی آئی نے گھوٹکی سے کراچی تک ایک بڑا سندھ حقوق مارچ کیا تھا۔ اس وقت جی ڈی اے (GDA) کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کے مضبوط گڑھ میں نقب لگانے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے 120 ارکان سے زبردستی پارٹی چھڑوائی گئی، شیرافضل مروت

ان کا کہنا ہے کہ اس دور میں حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان، علی زیدی اور دیگر مقامی رہنماؤں کو متحرک کیا گیا اور وفاقی وزرا کے تواتر سے دوروں نے کارکنوں میں جان ڈالی، جبکہ موجودہ دور میں پی ٹی آئی کا سندھ (خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ دیہی علاقوں) میں پسِ منظر میں چلے جانے کی چند بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسے کہ 9 مئی کے واقعات کے اثرات،  تنظیمی ڈھانچے کا بکھراؤ، قانونی اور سیاسی رکاوٹیں اور مقدمات۔

پارٹی کو شدید کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا

سینیئر صحافی حمید سومرو کے مطابق پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح سندھ میں بھی 9 مئی کے بعد پارٹی کو شدید کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ سندھ کی صفِ اول کی قیادت جیسے علی زیدی، عمران اسماعیل اور دیگر یا تو پارٹی چھوڑ گئے یا سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ ٹو کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کی پی ٹی آئی پر اپیلیں بروقت دائر نہ کرنے کا اعتراض ختم کرنے کی ہدایت

ان کا مزید کہنا ہے کہ سندھ میں پی ٹی آئی کا ڈھانچہ ہمیشہ سے شخصیات کے گرد گھومتا تھا۔ جب مرکزی اور صوبائی قیادت زیرِ عتاب آئی یا قید ہوئی، تو نچلی سطح پر کارکنوں کو منظم کرنے والا کوئی فعال کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز باقی نہ رہا۔ 2024 کے انتخابات میں بلے کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کے دور افتادہ علاقوں میں آزاد امیدواروں کے لیے مہم چلانا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔

فعال قیادت کو مسلسل قانونی لڑائیوں کا سامنا ہے

فیض اللہ خان کے مطابق اس وقت سندھ میں موجودہ فعال قیادت کو مسلسل قانونی لڑائیوں کا سامنا ہے جس کی سب سے بڑی مثال پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ ہیں، جس کی وجہ سے وہ عوامی مہم جوئی کے بجائے عدالتوں تک محدود ہیں۔

حمید سومرو کے مطابق پی ٹی آئی کی عدم موجودگی کا براہِ راست فائدہ پیپلز پارٹی کو دیہی سندھ میں اور ایم کیو ایم یا دیگر جماعتوں کو شہری سندھ میں مل رہا ہے، کیونکہ سیاسی میدان خالی چھوڑنے سے مخالفین کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پی ٹی آئی کے لیے سندھ کے علاقے بدین سے بڑا تعاون مرزا فیملی کی صورت میں ملا تھا جس میں ذوالفقار مرزا خود اور ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا پیپلز پارٹی کے خلاف متحرک دکھائی دیتے تھے، ساتھ ہی پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا میاں محمد سومرو کی صورت میں بھی مل سکتا ہے جن کے بارے میں ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ وہ بہت جلد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

بقا کی جنگ

شاہ محمود قریشی کے دور میں پی ٹی آئی ایک جارحانہ اپوزیشن کے طور پر ابھری تھی، لیکن موجودہ دور میں یہ بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ قیادت کی تبدیلی، قانونی دباؤ اور ہراساں کیے جانے کے خوف نے تنظیم کو مفلوج کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ منظر عام سے غائب دکھائی دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں