لاہور کی سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کا مقدمہ خارج کیا جائے، میشا شفیع کی عدالت میں درخواست
ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ علی ظفر نے سنہ 2018 میں میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
مقدمے کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ کیس کی 284 پیشیاں ہوئیں۔ اس طویل عدالتی عمل کے دوران 9 ججز بھی تبدیل ہوئے۔
میشا شفیع پر مقدمے سے متعلق ٹوئٹ پر بھی پابندی
مزید پڑھیے: میشا شفیع کیس پر خاندان نے کس کرب کا سامنا کیا، والدہ علی ظفر کی لب کشائیسیشن کورٹ نے میشا شفیع کو ہراسگی سے متعلق ٹوئٹ کرنے سے بھی روک دیا۔
علی ظفر کی جانب سے ایڈووکیٹ عمر طارق گل جبکہ میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے دلائل دیے۔
مقدمہ کیا تھا، کب کیا ہوا؟
گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع اور پاپ اسٹار علی ظفر کے درمیان قانونی جنگ اپریل 2018 میں شروع ہوئی تھی۔ یہ عالمی #MeToo تحریک سے جڑا ایک اہم اور ہائی پروفائل کیس تھا۔ اس میں جنسی ہراسانی کے الزامات اور اس کے بعد ایک بڑے ہتکِ عزت کے مقدمے نے کئی سالوں تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کو جنم دیا۔
ابتدائی الزام (اپریل 2018)
میشا شفیع نے ٹوئٹر پر علی ظفر پر ایک سے زیادہ مواقع پر جسمانی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے خاص طور پر دسمبر 2017 میں ان کے گھر پر ہونے والے ایک جم سیشن کے واقعے کا حوالہ دیا۔
تردید اور ہتک عزت کا مقدمہ
علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان الزامات نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
کام کی جگہ پر ہراسانی کی شکایت
میشا شفیع نے صوبائی محتسب کے پاس شکایت درج کروائی جسے تکنیکی بنیادوں (آجر اور ملازم کے تعلق کی عدم موجودگی) پر مسترد کر دیا گیا بعد ازاں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔
قانونی کارروائیاں اور فوجداری الزامات
یہ مقدمات مختلف سیشن عدالتوں اور اعلیٰ عدالتوں میں چلتے رہے۔
سنہ 2020 میں، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے علی ظفر کی شکایت پر میشا شفیع اور دیگر کے خلاف مبینہ ’بدنامی مہم‘ کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی۔
اہم قانونی موڑ
سنہ2022 میں میشا شفیع نے ایک حکمِ امتناعی کے خلاف کامیابی حاصل کی جس کے بعد علی ظفر کے خلاف ان کا اپنا ہتک عزت کا مقدمہ آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔
مزید پڑھیں: علی ظفر کی اہلیہ عائشہ فضلی نے مداحوں کو اپنے گھر کی سیر کروا دی
اس کیس میں کئی سالوں کے دوران 284 سماعتیں ہوئیں، 9 جج صاحبان اور 20 گواہان شامل رہے۔
آج کا فیصلہ (مارچ 2026)
آمنگل 31 مارچ کو یعنی آج لاہور کی ایک سیشن عدالت نے میشا شفیع کو علی ظفر کو ذہنی اذیت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ ان کے الزامات ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ مقدمہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر زیر بحث رہا۔














