علی ظفر کا ہتک عزت کا دعویٰ درست قرار، میشا شفیع مقدمہ ہارگئیں

منگل 31 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کی سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کا مقدمہ خارج کیا جائے، میشا شفیع کی عدالت میں درخواست

ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ علی ظفر نے سنہ 2018 میں میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

مقدمے کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ کیس کی 284 پیشیاں ہوئیں۔ اس طویل عدالتی عمل کے دوران 9 ججز بھی تبدیل ہوئے۔

میشا شفیع پر مقدمے سے متعلق ٹوئٹ پر بھی پابندی

مزید پڑھیے: میشا شفیع کیس پر خاندان نے کس کرب کا سامنا کیا، والدہ علی ظفر کی لب کشائیسیشن کورٹ نے میشا شفیع کو ہراسگی سے متعلق ٹوئٹ کرنے سے بھی روک دیا۔

علی ظفر کی جانب سے ایڈووکیٹ عمر طارق گل جبکہ میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے دلائل دیے۔

مقدمہ کیا تھا، کب کیا ہوا؟

گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع اور پاپ اسٹار علی ظفر کے درمیان قانونی جنگ اپریل 2018 میں شروع ہوئی تھی۔ یہ عالمی #MeToo تحریک سے جڑا ایک اہم اور ہائی پروفائل کیس تھا۔ اس میں جنسی ہراسانی کے الزامات اور اس کے بعد ایک بڑے ہتکِ عزت کے مقدمے نے کئی سالوں تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کو جنم دیا۔

ابتدائی الزام (اپریل 2018)

میشا شفیع نے ٹوئٹر پر علی ظفر پر ایک سے زیادہ مواقع پر جسمانی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے خاص طور پر دسمبر 2017 میں ان کے گھر پر ہونے والے ایک جم سیشن کے واقعے کا حوالہ دیا۔

تردید اور ہتک عزت کا مقدمہ

علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان الزامات نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

کام کی جگہ پر ہراسانی کی شکایت

میشا شفیع نے صوبائی محتسب کے پاس شکایت درج کروائی جسے تکنیکی بنیادوں (آجر اور ملازم کے تعلق کی عدم موجودگی) پر مسترد کر دیا گیا بعد ازاں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔

قانونی کارروائیاں اور فوجداری الزامات

یہ مقدمات مختلف سیشن عدالتوں اور اعلیٰ عدالتوں میں چلتے رہے۔

سنہ 2020 میں، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے علی ظفر کی شکایت پر میشا شفیع اور دیگر کے خلاف مبینہ ’بدنامی مہم‘ کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی۔

اہم قانونی موڑ

سنہ2022  میں میشا شفیع نے ایک حکمِ امتناعی کے خلاف کامیابی حاصل کی جس کے بعد علی ظفر کے خلاف ان کا اپنا ہتک عزت کا مقدمہ آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔

مزید پڑھیں: علی ظفر کی اہلیہ عائشہ فضلی نے مداحوں کو اپنے گھر کی سیر کروا دی

اس کیس میں کئی سالوں کے دوران 284 سماعتیں ہوئیں، 9 جج صاحبان اور 20 گواہان شامل رہے۔

آج کا فیصلہ (مارچ 2026)

آمنگل 31 مارچ کو یعنی آج لاہور کی ایک سیشن عدالت نے میشا شفیع کو علی ظفر کو ذہنی اذیت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ ان کے الزامات ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ مقدمہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر زیر بحث رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، طاہر اشرفی

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

کے پی ٹی اور رومانیہ کی بندرگاہ قسطنطہ کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہتک عزت مقدمہ: علی ظفر کی سیشن عدالت میں کامیابی، میشا شفیع کا لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ

ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو جنگ مزید شدت سے جاری رکھی جائے گی، امریکی وزیر دفاع کی دھمکی

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا