بکنگھم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ کنگ چارلس اور ملکہ کیملا اپریل کے آخر میں سرکاری دورے پر امریکا جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکہ الزبتھ کا عالیشان سفارتی اصول جس کے صدر ٹرمپ بھی معترف
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب برطانوی حکومت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے جو خطے کی صورتحال پر پیدا شدہ تناؤ کے باعث کشیدہ ہو گئے تھے۔
محل کے اعلان کے مطابق اس طویل مدتی منصوبے کے تحت یہ دورہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریب کے موقعے پر کیا جائے گا اور اس کے بعد شاہی جوڑا برمودا بھی جائے گا۔
یہ برطانوی فرمان روا کا سنہ 2007 کے بعد امریکا کا پہلا ریاستی دورہ ہوگا۔ سنہ 2007 میں ملکہ الزبتھ نے اپنی حکومت کے دوران امریکا کا چوتھا ریاستی دورہ کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بادشاہ اور ملکا کا دورہ 27 اپریل کو شروع ہوگا اور اگلے دن وائٹ ہاؤس میں عشائیے کی تقریب منعقد ہوگی۔
مزید پڑھیے: برطانوی کرنسی کی تاریخ کا اہم باب بند: ملکہ الزبتھ کی تصویر والا آخری سکہ جاری
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’میں بادشاہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے منتظر ہوں جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔ یہ شاندار ہوگا‘۔
برطانیہ کی جانب سے ابتدا میں امریکی فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اگرچہ بعد میں امریکی افواج کو دفاعی حملے کرنے کی اجازت دی گئی۔
مزید پڑھیں: امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے
ٹرمپ نے کیئر اسٹارمر پر بار بار تنقید کی اور کہا کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں اور تاریخی طور پر قریبی اتحاد خراب کر دیا۔
شاہی اثر و رسوخ
اب برطانیہ کی حکومت امید کر رہی ہے کہ 77 سالہ بادشاہ موجودہ کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔














