بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مغربی ہواؤں کے زیر اثر جاری بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 24 مارچ سے اب تک بارشوں اور متعلقہ واقعات میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 25 شہری جاں بحق، 77 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ ہلاکتوں کے واقعات ہرنائی، کوہلو، تربت، جعفر آباد، لورالائی اور کچھی میں پیش آئے۔ کچھی میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچی جان کی بازی ہار گئی جبکہ دیگر علاقوں میں چھتیں گرنے اور بارش سے متعلق حادثات کے باعث اموات ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں اور طغیانی کے باعث صوبے بھر میں 120 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ہرنائی، کوہلو، تربت، قلعہ عبداللہ، پشین، گوادر، کچھی اور لورالائی کے مختلف علاقوں میں مکانات متاثر ہوئے جبکہ بعض اضلاع میں ژالہ باری اور بارشوں سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آواران، چمن، بارکھان، دکی، ہرنائی، کچھی، کیچ، کوہلو، لسبیلہ اور لورالائی سمیت متعدد اضلاع میں بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، سوراب، ژوب، کوئٹہ، زیارت اور شیرانی میں بھی بارشیں ہوئیں۔
شدید بارشوں کے باعث ہرنائی، قلعہ عبداللہ اور گردونواح کے ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ قلعہ عبداللہ کے علاقوں گلستان، توبہ اچکزئی اور بازار میں سیلابی صورتحال رپورٹ ہوئی جبکہ مچھکا اسٹریم، آرامبی اسٹریم، باغک اسٹریم اور گلستان کاریز میں پانی کی سطح بلند ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال، مسافر وین اور ٹرک ریلے میں بہہ گئے
ادھر ضلع کچھی میں دریائے ناڑی میں طغیانی کے باعث پشتے میں شگاف پڑ گیا جس کے نتیجے میں متعدد مکانات متاثر ہوئے اور قریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی جبکہ سیلابی پانی کے باعث 50 سے زائد مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔
بارشوں کے باعث ہرنائی تا سنجاوی اور ہرنائی تا کوئٹہ شاہراہیں آمدورفت کے لیے بند ہو گئیں جبکہ ہرنائی میں کئی اندرونی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی نگرانی میں پی ڈی ایم اے کی مشینری کے ذریعے گلستان اور گردونواح میں ریسکیو آپریشن کیے گئے جبکہ بندوں کی مضبوطی اور بحالی کا کام بھی جاری ہے۔
گلستان کے علاقے میں سیلابی ریلے میں 15 خواتین اور بچوں کو لے جانے والی ایک منی کوچ پھنس گئی تھی جسے ضلعی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت نکال لیا۔ اس کے علاوہ مچھکا اسٹریم میں مختلف مقامات پر پھنسنے والی دو گاڑیوں کو بھی ریسکیو کر لیا گیا۔
ضلع ہرنائی میں مکان کی چھت گرنے سے متاثرہ خاندان کو پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان فراہم کیا گیا جبکہ ضلع کچھی میں ضلعی انتظامیہ بھاری مشینری کے ذریعے پشتے کے شگاف کو پر کرنے میں مصروف ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات، 17 افراد جاں بحق
ریلیف کمشنر اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی کی ہدایات پر صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور تمام ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو عملہ اور امدادی ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔












