پاکستان کی ثالثی خطے میں قیام امن کا واحد راستہ، ماہرین کا ناقدین کو جواب

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش پر بعض عرب حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی امریکا اور ایران میں ثالثی: خیبرپختونخوا کے عوام کیا کہتے ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق کچھ عرب صحافیوں اور پالیسی ماہرین کا مؤقف ہے کہ کوئی ملک بیک وقت اتحادی اور ثالث نہیں ہو سکتا اور چونکہ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اس لیے اسے غیر جانبدار رہنے کے بجائے ایک فریق کا ساتھ دینا چاہیے۔

ماہرین اس سوچ کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ صورتحال کو’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘ کے فارمولے تک محدود کرنے کے مترادف ہے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض عرب ممالک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ طور پر جنگ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان بھی ان کا ساتھ دے۔

مزید پڑھیے: پوری دنیا پاکستان کی ثالثی کی معترف، عمران خان نیتن یاہو اور مودی کی زبان بول رہے ہیں: عباد اللہ

تاہم مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ جب امریکا اور اسرائیل پہلے ہی ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کر چکے ہیں تو مزید جنگ سے کیا حاصل ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی جنگ میں اختتام جنگ کی حکمت عملی نہایت اہم ہوتی ہے اوار اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں رہتا

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر خطے کے ممالک اس تنازع میں مزید الجھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں طویل المدتی دشمنی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ بالآخر خطے کے عرب ممالک ، ایران، ترکیہ اور پاکستانی کو ایک ساتھ رہنا ہی ہے۔

پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک کو جنگوں کا تجربہ ہے اور وہ خطے میں ایک قابلِ قبول اور باعزت سیاسی حل کی تلاش میں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ شکست خوردہ فریق کی تذلیل مزید تنازعات کو جنم دیتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایسا حل تلاش کیا جائے جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا تنازع: پاکستان کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، چین

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک کو جنگ کے بجائے استحکام اور امن پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ طویل تنازع سب کو کمزور کر سکتا ہے جبکہ ایک متوازن سیاسی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟

’یہ خود کو جان بوجھ کر مظلوم ظاہر کرتے ہیں‘، امریکی گلوکار کی امریکی صیہونیوں پر شدید تنقید

پاکستان نے یو اے ای کے 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل واپس کر دیے

برطانیہ اور فرانس کی آبنائے ہرمز سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت، 44 ممالک لندن مذاکرات میں شریک

ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: حکومت پنجاب کی 50 ہزار ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار