کراچی میں جعلی شناختی کارڈز کے اجرا میں ملوث ہونے کے الزام میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نادرا کے ایک افسر کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران افغان شہریوں کو غیر قانونی پاکستانی دستاویزات فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایف آئی اے امیگریشن کی کارروائی، کمبوڈیا میں سرگرم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا ملزم گرفتار
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایف آئی اے نے کراچی کے علاقے میٹروول سائٹ میں چھاپہ مار کر دو افغان شہریوں کو گرفتار کیا، جن کے قبضے سے غیر قانونی پاکستانی شناختی دستاویزات برآمد ہوئیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نادرا کے ایک افسر، فرقان احمد خان درانی، ان جعلی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کی منظوری میں ملوث تھے۔ بعد ازاں انہیں کراچی کے علاقے نرسری میں ایک اور کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ملزمان کے خلاف فارنرز ایکٹ 1946 اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نادرا نے شناختی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات شروع کردیے
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید انکشافات متوقع ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا اس نیٹ ورک میں مزید افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے 2023 میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ متعارف کرایا تھا، جس کے تحت اب تک 18 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ اس سے قبل بھی 2024 میں نادرا اور ایف آئی اے نے مشترکہ کارروائی میں غیر ملکیوں کو غیر قانونی شناختی کارڈ جاری کرنے کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا تھا۔













