انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ 9 مئی کے حملوں میں مختلف ٹارگٹ منتخب کیے گئے تھے اور تمام حملے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ کیے گئے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تحقیقات کے بعد پتہ چلا ہے کہ حملوں کے لیے پلاننگ کی گئی۔ سوشل میڈیا کو بھی منظم طریقے سے استعمال کیا گیا۔
9 مئی کے واقعات پر آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس، سوشل میڈیا کیلئے پیغام سنیں۔۔!!! 👇 pic.twitter.com/LZLdMW3gV6
— Mughees Ali (@mugheesali81) June 4, 2023
عثمان انور نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی ادارے کے خلاف نفرت پھیلائی گئی۔ 9 مئی کے روز پی ٹی آئی کی لیڈر شپ جو ہدایات دیتی رہی وہ سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ماحول بنایا گیا۔ 215 کالز ٹریس کی گئیں جن کی تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔
آئی جی کا کہنا تھا کہ اس روز حملوں کے لیے یاسمین راشد، حماد اظہر، محمود الرشید، اسلم اقبال، مراد راس نے مختلف لوگوں کو کالز کیں۔
8مارچ اور 9 مئی کی ہنگامی آرائی کی کالز کا ڈیٹا ملتا جلتا ہے
ان کا کہنا تھا کہ 8 مارچ اور 9 مئی کی ہنگامہ آرائی کی کالز کا ڈیٹا ملتا جلتا ہے۔ ان دنوں سے متعلق 154 کالز ایک جیسی ہیں۔ ہم عدالت میں ثابت کریں گے کہ 9 مئی کو ہونے والے حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے ہمارے شہدا کی یادگاروں پر حملے کیے۔ جو دشمن نہ کر سکا وہ انہوں نے کر کے دکھایا۔ جناح ہاؤس،جی ایچ کیو، ریڈیو پاکستان اور دیگر مقامات پر ایک وقت میں حملہ کیا گیا۔ ایک ایک کال کا نمبر موجود ہے اور تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پاک آرمی کے ویٹرنز کا جناح ہاؤس لاہور کا دورہ، 9 مئی کے واقعات کی شدید مذمت
ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کی 88 کالز لیڈر شپ کے ساتھ منسلک ہیں۔ جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والے 18 ملزمان گرفتار ہیں۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی خبریں من گھڑت ہیں بلکہ ہماری خواتین اہلکاروں کو دھکے دیے گئے، زیادتی تو ان کے ساتھ ہوئی۔
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ یہ پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ عمران ریاض کی زیر حراست تشدد کے باعث موت ہوگئی ہے جبکہ ہمارے پاس تو ایسا کوئی ریکارڈ نہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ جب کہا گیا کہ ہمارے 40 بندے مارے گئے تو ہم نے کہا کہ لاشیں تو دکھا دیں۔
سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا کر پھر ٹوئٹ ڈیلیٹ کیے جاتے ہیں
پولیس سربراہ نے کہا کہ مجموعی طور پر 4 افراد کی موت ہوئی اور وہ بھی پی ٹی آئی کے لوگوں کی فائرنگ سے ہوا۔ 2019 اور 2021 کی ویڈیوز ہم پر ڈالی گئیں۔ یہ وہ بد مست ہاتھی ہیں جو چیزیں سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں اور پھر ڈیلیٹ کر دیتے ہیں مگر ہم تو ایک ایک ثبوت دکھائیں گے۔
عثمان انور نے کہا کہ یہ لوگ جھوٹ بول بول کر قوم کو یہاں تک لے کر آئے ہیں۔ ہم یاسمین راشد کی بریت کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون اپنا راستہ لے چکا ہے۔ 708 افراد گرفتار ہیں جن میں سے 125 کو عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے اور دیگر کو بھی پیش کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملہ: 9 مئی کے شرپسندوں کے سرغنہ کی شناخت ہو گئی
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے دیگر حکام کےساتھ پریس کانفرنس کے موقع پر 9 مئی کے حملوں کے حوالے سے سلائیڈز پر تفصیلات شیئر کرتے ہوئے میڈیا کو تفصیلات بتائیں۔














