وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت اقوامِ متحدہ کے ڈیجیٹلائزیشن فار ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ منصوبے کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی پروگرام پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ان ٹیکنالوجیز کو عدم مساوات بڑھانے کے بجائے مواقع کی برابری کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کیا ایف آئی اے کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی مجرموں کو پکڑنے میں مدد دے گی؟
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، جو اس منصوبے کی قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہ ہے، نے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے ویمن کنٹری آفس میں اجلاس منعقد کیا، جس کا مقصد منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
یہ 4 سالہ منصوبہ 2024 سے 2028 تک جاری رہے گا اور کوریہ انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کی مالی معاونت سے چلایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ منصوبے کے نتائج کو ادارہ جاتی پالیسیوں میں شامل کیا جائے تاکہ اس کی مدت کے بعد بھی پائیداری یقینی بنائی جا سکے، جبکہ صنفی بنیادوں پر نتائج کی حقیقی وقت میں نگرانی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
اجلاس میں حکومتی اور نجی شعبے کے شراکت داروں نے شرکت کی اور جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل شمولیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں گزشتہ سال خواتین اور مردوں کے درمیان موبائل انٹرنیٹ استعمال کا فرق 36-38 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رمضان ڈیجیٹل ادائیگی اقدام کے تحت 8 لاکھ سے زیادہ ڈیجیٹل والٹس قائم کیے گئے جبکہ پسماندہ خواتین کو ڈیجیٹل خدمات اور مالی شمولیت تک رسائی دینے کے لیے 70 لاکھ مفت سمز بھی فراہم کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے غیر رسمی شعبے کو باقاعدہ بنایا جا سکتا ہے جو تقریباً 50 فیصد جی ڈی پی پر مشتمل ہے۔
ان کے مطابق خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت افرادی قوت میں اضافہ، فی کس پیداوار میں بہتری اور پائیدار ٹیلنٹ کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے حامل جدید اقدامات شروع کردیے
اجلاس کے اختتام پر تمام شراکت داروں نے بین الادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے، پروگرام پر عملدرآمد کو تیز کرنے اور کامیابیوں کو دیرپا پالیسی اصلاحات میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزارتِ آئی ٹی کی زیر صدارت اسٹیئرنگ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل شمولیت کو مرکزی حکمت عملی میں شامل کرتے ہوئے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط بنایا جائے، جو وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے مطابق ہے۔













