بلوچستان حکومت نے حالیہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس کے بعد صوبائی حکومت نے توانائی کے تحفظ اور عوامی ریلیف کے لیے متعدد فیصلے کیے جن پر باضابطہ عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مارکیٹیں رات 8 بجے بند، بلوچستان میں حکومتی کفایت شعاری فیصلوں پر عملدرآمد شروع
محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز کے اوقات کار تبدیل کرتے ہوئے انہیں رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ریسٹورینٹ اور شادی ہال رات 10 بجے تک بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
البتہ دواخانوں، تندوروں اور نانبائیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
https://Twitter.com/sadafzbaloch/status/20408066636958311091
اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور گراں فروشی کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائن 1129 قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جہاں شہری پیٹرول کی مقررہ قیمت سے زائد وصولی یا بدعنوانی کی شکایات درج کرا سکیں گے۔
حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کے تحت مستحق طبقات کو براہ راست ریلیف دینے کے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا فیصلہ
تاہم ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں ریلیف کے اقدامات نسبتاً بعد میں سامنے آئے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت نے 8 مارچ 2026 کو موٹر سائیکل مالکان کے لیے 2200 روپے فیول سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا جس سے تقریباً 15 سے 16 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی جبکہ بی آر ٹی کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اسی طرح 3 اپریل 2026 کو سندھ حکومت نے موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 2000 روپے سبسڈی دینے کے ساتھ ساتھ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے بھی مالی امداد کا اعلان کیا جبکہ موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
پنجاب حکومت نے بھی 3 اپریل کو عوامی ریلیف کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں اورنج لائن، میٹرو بس، اسپیڈو اور گرین بس سروس کو مفت کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ موٹر سائیکل مالکان کو 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دینے اور کسانوں کے لیے ڈیزل پر سبسڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
مزید پڑھیں: افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، مہاجرین کو اب اپنے ملک جانا ہوگا، وزیر داخلہ بلوچستان
اس تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان حکومت نے سب سے آخر میں عوام کو ریلیف کیوں فراہم کیا؟
اس حوالے سے بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم شاہد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان حکومت نے ریلیف فراہم کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی۔
ان کے مطابق 5 اپریل کو صوبائی حکومت نے صورتحال کے پیش نظر اقدامات کا اعلان کیا اور وفاقی پالیسیوں کی روشنی میں عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا گیا، جس کی مثالیں ماضی میں بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا بلوچستان عوامی پارٹی لیگ ن میں ضم ہونے جارہی ہے؟
دوسری جانب سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جابر شاہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ریلیف کے فیصلوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت اکثر اہم پالیسی فیصلوں کے لیے وفاق کی جانب دیکھتی ہے۔
ان کے مطابق صوبے کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات محدود ہونے کے باعث کئی بڑے فیصلے وفاقی سطح پر طے کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہاں ریلیف اقدامات کا اعلان نسبتاً دیر سے سامنے آتا ہے۔












