خیبر پختونخوا حکومت نے خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر توانائی کی بچت کے لیے صوبے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس فیصلے سے پریشان دکانداروں سمیت دیگر کاروباری افراد کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کا کاروبار مزید متاثر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
سرکاری اعلامیے کے مطابق انرجی بچت پالیسی کے تحت کمرشل سرگرمیوں کو محدود کرنے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت دکانیں رات 8 بجے بند ہوں گی اور ریسٹورنٹس اور شادی ہال رات 10 بجے تک بند ہوجائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کو اس پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
تاجروں اور دکانداروں کی تشویش
صوبے کے کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان سے مشاورت کیے بغیر یہ یکطرفہ فیصلہ کیا ہے جس سے کاروبار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا شادی ہالز ایسوسی ایشن کے رہنما خالد ایوب نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سہولت دینے کے بجائے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
خالد ایوب کا کہنا تھا کہ دہشتگردی، لوڈشیڈنگ، گیس بحران اور مہنگائی کے باعث کاروبار پہلے ہی خراب ہے اور نئی پابندیاں مزید نقصان کا سبب بنیں گی۔
مزید پڑھیے: پنجاب میں ریسٹورنٹ اور شادی ہالوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ آج کل شادیوں کا سیزن ہے، بارات اور ولیمہ کے ایونٹس مقررہ وقت پر ختم نہیں ہوتے اور یہ کارروائی شادی ہالز کے خلاف ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں، اور شادی ایک خاص وقت پر ختم کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو سولر نظام پر سبسڈی دینی چاہیے تھی شاید اس سے یہ مشکل فیصلہ لینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف ہمارا کاروبار متاثر ہوگا بلکہ ٹیکس میں بھی کمی آئے گی۔
’ریسٹورنٹس کا کام ہی 10 کے بعد شروع ہوتا ہے‘
پشاور کے ریسٹورنٹ مالک تنویر خان نے کہا کہ گرمیوں میں ریسٹورنٹس میں اصل کام رات 10 بجے کے بعد شروع ہوتا ہے اور 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ ہمارے لیے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کو بند کرنے سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ ملک کی معیشت پر بھی برا اثر پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں فوڈ اسٹریٹس میں رات 3 بجے تک رونق رہتی ہے اور اسے بند کرنا کاروبار ختم کرنے کے برابر ہے۔
’کوئی سہولت نہیں دے سکتے تو کم ازم کام کاروبار تو نہ چھینیں‘
پشاور کے دکاندار محمد نعیم نے کہا کہ ہم پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث کاروبار متاثر ہے اور نئی پابندیاں مشکلات میں اضافہ کریں گی۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری اقدامات: سینیٹ سیکریٹریٹ میں 700 سے 750 ملین روپے کی بچت ممکن
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں حکومتیں کاروباری طبقے کو سہولیات دیتی ہیں اور سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں لیکن یہاں صورت حال بالکل برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر کوئی سہولت فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم کاروبار تو نہ چھینے۔
تاجر اتحاد مشکل وقت میں ساتھ
تاجر اتحاد کے جنرل سیکریٹری جاوید خان نے کہا کہ برادری حکومت کے ساتھ مشکل فیصلوں میں تعاون کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والے 23 ارب روپے سے کس کو ریلیف دیا جائے گا؟
انہوں نے بتایا کہ دنیا میں فیول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور انرجی بچت پالیسی ضروری ہے اس لیے ہم حکومت کے ساتھ ہوں گے لیکن اسے سمجھداری سے نافذ کیا جائے۔
حکومت کا مؤقف
خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کی گئی ہے اور اس سے بجلی اور فیول کی بچت ہوگی۔













