قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبرپختونخوا میں مبینہ کرپشن اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر سوات سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور ایک وزیر کے خلاف انکوائری شروع کردی، جبکہ ٹی ایم اے کرک کو بھی مبینہ کرپشن پر نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق ادارے نے سوات سے تعلق رکھنے والے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی اور سابق وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم اور وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد کے خلاف انکوائری شروع کردی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتساب کمیٹی نے اسپیکر بابر سلیم سواتی کو کرپشن الزامات سے بری کردیا
انہوں نے بتایا کہ دونوں کے خلاف نیب کو شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی ابتدائی جانچ کے بعد سوالنامے ارسال کیے گئے تھے۔ تاہم دونوں کی جانب سے نیب کو جواب نہیں دیا گیا، جس پر نوٹسز جاری کیے گئے۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ موصول شکایات اور دستاویزات کے مطابق دونوں سیاسی شخصیات نے اپنے دور میں اثاثے بنائے، جبکہ رشتے داروں کے نام پر بھی اثاثے بنائے گئے جو ڈکلیئر نہیں کیے گئے۔
وزیر معدنیات کے خلاف اثاثہ جات کا کیس
وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی نے نیب کی جانب سے نوٹس اور سوالنامے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ان کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے اثاثوں کے حوالے سے تمام دستاویزات نیب کو جمع کرا دی ہیں، جبکہ نیب اس کے باوجود بھی نوٹس جاری کررہا ہے۔
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر امجد علی کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کی انکوائری ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیب نے صوبائی وزیر کو دوبارہ نوٹس نہیں دیا بلکہ ایک خاتون سمیت ان کے دو قریبی رشتہ داروں کو گواہ کے طور پر نوٹس دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے نام پر اثاثے بھی مبینہ طور پر صوبائی وزیر نے بنائے ہیں۔ عدالت نے نیب کو قانون کے مطابق انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر امجد علی نے سابقہ دور میں، جب وہ وزیر ہاؤسنگ تھے، مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے اثاثے بنائے۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیر نے رشتہ داروں کے نام پر بھی اثاثے بنائے ہیں، جس پر باقاعدہ انکوائری جاری ہے۔
سابق صوبائی وزیر فضل حکیم کے خلاف شکایات
پی ٹی آئی کے موجودہ سوات سے رکن صوبائی اسمبلی اور سابق وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم کے خلاف بھی آمدن سے زیادہ اثاثہ جات اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر نیب نے انکوائری شروع کی ہے۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ فضل حکیم کے خلاف محکمہ لائیو اسٹاک کے منصوبوں میں مبینہ خورد برد اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ابتدائی شواہد کی جانچ کے بعد انکوائری شروع کر دی گئی اور باقاعدہ سوالنامہ ارسال کیا گیا۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ فضل حکیم نے سوات کے شاہی محل میں بھاری قیمت پر پراپرٹی بھی خریدی ہے، جبکہ سیاست میں آنے سے پہلے ان کے اثاثے اتنے نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق فضل حکیم کی جانب سے سوالنامے کا جواب جمع نہ کرانے کی وجہ سے انکوائری تاخیر کا شکار ہے، جس کے باعث نیب نے خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھی مراسلہ ارسال کردیا ہے۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ سوالنامے کا جواب جمع کرانے کے بجائے فضل حکیم نے نیب انکوائری کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
ٹی ایم اے کرک کو مبینہ کرپشن پر نیب کا نوٹس
نیب خیبرپختونخوا نے ٹی ایم اے ضلع کرک کے ٹینڈرز میں مبینہ کرپشن اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کے حوالے سے شکایات پر باقاعدہ نوٹس جاری کیا ہے۔
نوٹس کے مطابق کرک میں ٹینڈرز میں بے ضابطگیوں کی شکایات نیب کو موصول ہوئی ہیں، جس پر تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹس میں لکھا ہے کہ گزشتہ ماہ 83 کروڑ روپے کے ترقیاتی ٹینڈرز جاری کیے گئے، جبکہ کم ترین بولی (26، 23 اور 20 فیصد بیلو ریٹس) نظر انداز کرکے من پسند کنٹریکٹر کو مبینہ طور پر نوازا گیا۔
نیب کے مطابق بیلو ریٹس مسترد کرنے سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جس پر باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ موصول شکایات اور شواہد کے مطابق مبینہ کرپشن میں بااثر سیاسی افراد اور سرکاری حکام ملوث ہیں۔
چترال میں ریلیف فنڈز میں مبینہ کرپشن، پی ٹی آئی کارکنان عدالت پہنچ گئے
خیبر پختونخوا میں مبینہ کرپشن کے خلاف آواز پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے بھی اٹھائی جا رہی ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے دوران سابق صوبائی وزیر و ایم این اے عاطف خان نے کرپشن پر کھل کر بات کی۔
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ عاطف خان نے اجلاس میں کہاکہ ان کی حکومت میں صوبے میں ترقیاتی کام نہیں ہو رہے، جبکہ کرپشن عروج پر ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت پر کرپشن کے الزامات من گھڑت، پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں، بیرسٹر گوہر
اسی طرح خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال میں ڈیزاسٹر ریلیف فنڈز میں مبینہ کرپشن کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنان اپنی ہی حکومت کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر چکے ہیں، اور ہائیکورٹ نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔
درخواست گزار، جو پی ٹی آئی کا دیرینہ کارکن ہے، نے عدالت کو بتایا کہ اپر چترال میں حالیہ ڈیزاسٹر کی مد میں جاری 518 ملین روپے میں خورد برد کی گئی ہے۔ دورانِ سماعت درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ فنڈز جس مد میں آئے، اس پر خرچ نہیں ہوئے اور مبینہ طور پر کرپشن کی گئی۔ عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔














