امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ سفارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
US Looks To Make Iran Pay.
Washington is weighing the use of frozen Iranian assets to help Gulf allies rebuild infrastructure hit during the conflict.
Read More:https://t.co/eU7qWVxFN5#Iran #US #Gulf #MiddleEast #FrozenAssets #Geopolitics
— rediff (@RediffNews) June 7, 2026
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے تجویز دی ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز کو خلیجی ممالک میں ان نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا جائے جو مبینہ طور پر ایران کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے ادارے کو ہدایت دی ہے کہ خطے میں ہونے والے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگایا جائے اور مستقبل میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کے لیے بھی مالی ذرائع کا جائزہ لیا جائے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ اس وقت زیر غور آیا ہے جب ایران نے امریکا سے مذاکرات میں اپنی شرائط میں منجمد اثاثوں تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے کم از کم 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی بنیادی شرط ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ رقوم اس کی اپنی ملکیت ہیں اور انہیں غیر منصفانہ طور پر روکا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدے کی امید، ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ فنڈز مستقبل میں خلیجی اتحادیوں کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور کسی بھی ممکنہ نقصان کے ازالے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس تجویز نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی تعطل کو مزید سنگین بنا سکتی ہے بلکہ خلیج فارس کے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں بھی اضافہ کرے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منجمد اثاثوں کا یہ تنازع مستقبل کے امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ تہران اسے اپنی معاشی خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے تاحال اس منصوبے پر باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام دستیاب قانونی آپشنز زیر غور ہیں۔ سفارتی مبصرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو ایران اور امریکا کے تعلقات ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔













